کراچی: سندھ کابینہ نے سرکاری گندم کی اجرا قیمت میں 500 روپے فی 40 کلو کمی کی منظوری دیتے ہوئے نئی قیمت 4,500 روپے فی 40 کلو مقرر کردی ہے۔ اس سے قبل یہ قیمت 5,000 روپے فی 40 کلو تھی۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ فیصلے کے نتیجے میں آٹے کی قیمت میں تقریباً 17 روپے فی کلو کمی آنے کی توقع ہے، تاہم مارکیٹ میں حقیقی اثر رسد، ملوں کے اخراجات اور خوردہ سطح پر قیمتوں کے نفاذ پر منحصر ہوگا۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں فیصلے کی تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی اجرا قیمت میں کمی عوام کو آٹے کی قیمت میں ریلیف دینے کے لیے کی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے بیان کردہ 17 روپے فی کلو ممکنہ کمی ایک متوقع اثر ہے اور اسے مارکیٹ میں حتمی طور پر نافذ شدہ قیمت نہیں سمجھا جا سکتا۔
کابینہ اجلاس میں شہری ترقی سے متعلق ایک بڑے منصوبے پر بھی پیش رفت ہوئی۔ صوبائی کابینہ نے پانچ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں پانی کی فراہمی، نکاسی آب، صفائی اور ٹھوس کچرے کے انتظام کے لیے ایک ارب ڈالر کے شہری ترقیاتی سرمایہ کاری پروگرام کی تیاری سے متعلق ایشیائی ترقیاتی بینک کی معاونت والے پروگرام کی بعد از وقت منظوری دی۔ اس پروگرام کے مالی اور عملی مراحل کی مزید تفصیلات الگ سرکاری دستاویزات اور آئندہ فیصلوں میں واضح ہونے کی توقع ہے۔
اجلاس میں جامشورو ضلع کی پانچ ترقیاتی اسکیموں کے لیے مزید 502.409 ملین روپے کی منظوری بھی دی گئی، جن میں سیہون شہر کی پانی کی فراہمی کی اسکیم اور ریورس اوسموسس پلانٹس کی تنصیب شامل ہے۔ اس کے علاوہ شہید بینظیرآباد کے نواب شاہ ٹاؤن میں پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے 2.993 ارب روپے کی ترقیاتی اسکیم منظور کی گئی۔
صوبائی کابینہ نے کچی آبادیوں سے متعلق مسائل کے حل کے لیے ایک کمیٹی قائم کرنے کی بھی منظوری دی جو قانون سازی کی تجاویز اور معاملات کو آسان بنانے کے لیے ون ونڈو آپریشن پر سفارشات تیار کرے گی۔ شرجیل میمن نے بتایا کہ گھوٹکی-کندھ کوٹ پل پر تقریباً 75 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہوچکا ہے اور یہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت جاری ہے۔
حکومت نے کراچی میں ٹریفک مینجمنٹ اتھارٹی کے قیام کے لیے قانون سازی اور اسمارٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کا بھی عندیہ دیا۔ تاہم کابینہ کے اس اجلاس کا فوری معاشی اثر رکھنے والا اہم فیصلہ گندم کی اجرا قیمت میں کمی ہے، جس کے نتائج آنے والے دنوں میں آٹے کی تھوک اور خوردہ قیمتوں میں سامنے آئیں گے۔
