اسلام آباد: پاکستان اور یورپی یونین نے مجموعی طور پر 65 ملین یورو کے فنانسنگ معاہدوں پر دستخط کیے ہیں جن کے تحت ملک میں سرمایہ کاری کے ماحول، توانائی اور قدرتی وسائل کی مزاحمت، اور قانون و کاروباری نظام سے متعلق تین الگ پروگرام شروع کیے جائیں گے۔ اقتصادی امور ڈویژن کے مطابق معاہدوں پر یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس اور اقتصادی امور ڈویژن کے سیکریٹری محمد ہمایوں کریم نے اپنے اپنے فریق کی نمائندگی کرتے ہوئے دستخط کیے۔

معاہدوں کی مجموعی مالیت تقریباً 75 ملین ڈالر بتائی گئی ہے، جبکہ پاکستانی روپے میں یہ رقم تقریباً 20.64 ارب روپے بنتی ہے۔ یہ مالی معاونت یورپی یونین کے 2021 سے 2027 تک کے کثیر سالہ پروگرام کے تحت فراہم کی جائے گی اور اس کا مقصد اقتصادی ترقی، ماحولیاتی استحکام، حکمرانی اور قانون کی بالادستی سے متعلق منصوبوں کو تقویت دینا ہے۔

پہلا پروگرام "گلوبل گیٹ وے ڈیولپمنٹ فسیلیٹیشن فار پاکستان" سرمایہ کاری کے انتظام، مالی سہولت اور ماحولیاتی منصوبوں کے لیے سرمائے کی دستیابی بہتر بنانے پر توجہ دے گا۔ اس کے تحت ٹیکس نظام، طویل مدتی مالی منصوبہ بندی اور ایسے انتظامی ڈھانچوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کی جائے گی جو بیرونی سرمایہ کاری کو سہولت دے سکیں۔

دوسرا پروگرام خیبر پختونخوا میں توانائی اور قدرتی ماحول کی مزاحمت بڑھانے سے متعلق ہے۔ اس منصوبے کا ہدف ان دیہی علاقوں میں قابل تجدید توانائی کے مواقع بڑھانا ہے جو بجلی کے مرکزی گرڈ سے منسلک نہیں، جبکہ صوبائی توانائی شعبے میں نجی سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی شرکت کے لیے تربیت اور ادارہ جاتی معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔

تیسرا پروگرام پاکستان میں قانون کی بالادستی اور کاروباری ماحول کے لیے یورپی یونین کی معاونت سے متعلق ہے۔ اس کے ذریعے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پولیس، استغاثہ، عدالتوں اور قانونی امداد تک شہریوں کی رسائی بہتر بنانے پر کام ہوگا۔ پنجاب اور سندھ میں متبادل اور تجارتی تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو مضبوط کرنے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے تاکہ کاروباری تنازعات کے حل میں تیزی اور پیش گوئی کی صلاحیت پیدا ہو۔

اقتصادی امور ڈویژن نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ ترقیاتی تعاون میں اقتصادی ترقی، موسمیاتی مزاحمت، حکمرانی، انسانی حقوق اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال جیسے شعبے اہم رہے ہیں۔ حکام کے مطابق نئے پروگرام پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے سہولت، آف گرڈ آبادیوں تک توانائی کی رسائی اور تجارتی و قانونی نظام میں بہتری کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

یورپی یونین کے سفیر نے معاہدوں کو پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور ترقیاتی شراکت داری کا حصہ قرار دیا، جبکہ پاکستانی حکام نے انہیں ایسے وقت میں اہم قرار دیا جب ملک بیرونی سرمایہ کاری بڑھانے، توانائی کے نئے ذرائع پیدا کرنے اور ادارہ جاتی اصلاحات پر توجہ دے رہا ہے۔ پروگراموں کی عملی پیش رفت متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے ذریعے مرحلہ وار ہوگی۔