اسلام آباد: حکومت پاکستان اور یورپی یونین نے مجموعی طور پر 65 ملین یورو، یعنی تقریباً 20.64 ارب روپے، کے تین گرانٹ معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ ان معاہدوں کا مقصد پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانا، خیبر پختونخوا میں توانائی اور قدرتی ماحول کی مزاحمت بڑھانا، اور مختلف صوبوں میں قانون کی حکمرانی و کاروباری تنازعات کے حل کے نظام کو مضبوط کرنا ہے۔
یورپی یونین کے پاکستان میں وفد اور وزارت اقتصادی امور کے مطابق معاہدوں پر یورپی یونین کے سفیر ریمونڈاس کاروبلس اور سیکریٹری اقتصادی امور ڈویژن محمد ہمایوں کریم نے 21 ستمبر کو اسلام آباد میں دستخط کیے۔ یہ فنڈنگ یورپی یونین کے کثیر سالہ اشاریاتی پروگرام 2021 سے 2027 کے تحت فراہم کی جا رہی ہے۔
پہلا پروگرام، گلوبل گیٹ وے ڈویلپمنٹ فسیلی ٹیشن فار پاکستان، سرمایہ کاری مینجمنٹ اور مالیاتی ماحول میں اصلاحات سے متعلق ہے۔ اس کے تحت ٹیکس نظام، سرکاری مالی منصوبہ بندی اور طویل مدتی سرمایہ کاری سہولت کے پہلوؤں پر کام کیا جائے گا تاکہ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کے لیے زیادہ موزوں حالات پیدا کیے جا سکیں۔
دوسرا پروگرام خیبر پختونخوا میں توانائی اور قدرتی ماحول کی مزاحمت سے متعلق ہے۔ اس کا ہدف ایسے دیہی علاقوں میں قابل تجدید توانائی کے استعمال کو بڑھانا ہے جو قومی گرڈ سے منسلک نہیں، جبکہ صوبائی توانائی شعبے میں نجی سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کے لیے تربیتی اور ادارہ جاتی معاونت بھی شامل ہے۔
تیسرا پروگرام قانون کی حکمرانی اور کاروباری ماحول سے متعلق ہے۔ یورپی یونین کے مطابق اس کے ذریعے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں شہریوں کی پولیس، استغاثہ، عدالتوں اور قانونی امداد تک رسائی بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ پنجاب اور سندھ میں متبادل اور تجارتی تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو وسعت دینے کے لیے عدلیہ، قانونی ماہرین، جامعات اور کاروباری برادری کے ساتھ تعاون بھی پروگرام کا حصہ ہے۔
اقتصادی امور ڈویژن نے کہا ہے کہ یہ اقدامات پاکستان کی سرمایہ کاری بڑھانے، دور دراز آبادیوں تک بجلی کی رسائی بہتر بنانے اور قانونی و تجارتی نظام میں اصلاحات کی ترجیحات سے ہم آہنگ ہیں۔ یورپی یونین نے بھی اس پیکیج کو اقتصادی ترقی، توانائی کے استحکام، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور انصاف تک رسائی کے اپنے پاکستان پروگرام کا حصہ قرار دیا ہے۔
یہ فنڈنگ قرض نہیں بلکہ گرانٹ معاہدوں کی صورت میں ہے، اس لیے اس کے تحت طے شدہ پروگراموں کے نفاذ، نگرانی اور نتائج کی ذمہ داری متعلقہ پاکستانی اداروں اور یورپی شراکت داروں کے درمیان طے شدہ انتظامات کے مطابق ہوگی۔ پروگراموں کی عملی پیش رفت اور رقوم کے استعمال کا حتمی اثر ان کے نفاذ کے مرحلے میں سامنے آئے گا۔
