پاکستان اور یورپی یونین نے اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی سے متعلق دوطرفہ مذاکرات کے دسویں دور کے دوران دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق دونوں فریقوں نے علاقائی اور عالمی سطح پر دہشت گردی کے بدلتے خطرات کا جائزہ لیا، دہشت گردی کی تمام صورتوں کی مذمت کی اور اس کے خلاف مسلسل اور ادارہ جاتی رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستانی وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل انسداد دہشت گردی ڈاکٹر فریحہ بگٹی نے کی، جبکہ یورپی یونین کی نمائندگی یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس کی انسداد دہشت گردی کے لیے خصوصی ایلچی انا اسٹرزاسکا نے کی۔ یورپی وفد نے پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے متاثرین سے یکجہتی کا اظہار کیا اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو تسلیم کیا۔
مذاکرات میں افغانستان کی صورتحال کے سکیورٹی اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ دونوں فریقوں نے دہشت گرد گروہوں کی جانب سے سائبر اسپیس، معلوماتی ذرائع اور دیگر وسائل کے استعمال سے پیدا ہونے والے نئے خطرات پر تبادلہ خیال کیا۔ پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام، دہشت گردی کی مالی معاونت کے سدباب اور شدت پسندی، خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ہونے والی آن لائن radicalisation، سے نمٹنے کے تجربات اور طریقہ کار بھی زیر بحث آئے۔
پاکستان اور یورپی یونین نے اقوام متحدہ سمیت کثیرالجہتی فورمز پر رابطہ اور تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تاکہ دہشت گردی کے خلاف زیادہ مربوط بین الاقوامی حکمت عملی تشکیل دی جا سکے۔ دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ دہشت گردی کے بدلتے طریقوں کے مقابلے کے لیے صرف سکیورٹی کارروائی کافی نہیں بلکہ مالیاتی نگرانی، آن لائن ماحول، انسداد انتہا پسندی اور بین الاقوامی تعاون کو بھی ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔
مذاکرات میں مستقبل کے تعاون کے ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی گئی اور باقاعدہ دوطرفہ رابطہ جاری رکھنے کا عزم دہرایا گیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات کا اگلا دور آئندہ سال برسلز میں باہمی طور پر طے شدہ تاریخ پر ہوگا۔ موجودہ اجلاس میں تعاون کے سیاسی اور ادارہ جاتی عزم کا اظہار ہوا ہے؛ مخصوص عملی منصوبوں، مالی وسائل یا نئے قانونی اقدامات کی تفصیلات بعد کے مراحل میں سامنے آ سکتی ہیں۔
