برسلز: پاکستان اور یورپی یونین نے انسداد دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ برسلز میں ہونے والے پاکستان-یورپی یونین انسداد دہشت گردی ڈائیلاگ میں دونوں جانب کے حکام نے موجودہ دہشت گردی کے خطرات، علاقائی سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
مذاکرات میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائیوں، جانی و مالی نقصانات اور شدت پسند تنظیموں سے لاحق سرحد پار خطرات سے متعلق اپنا مؤقف پیش کیا۔ پاکستانی وفد نے زور دیا کہ دہشت گردی ایک مشترکہ عالمی چیلنج ہے اور اس سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے معلومات کے تبادلے، مالی معاونت کے ذرائع روکنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داری ضروری ہے۔
یورپی یونین اور پاکستانی نمائندوں نے پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام، دہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد، آن لائن شدت پسند مواد اور نئی ٹیکنالوجیز کے ممکنہ غلط استعمال سے متعلق چیلنجز پر بھی گفتگو کی۔ فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ انسداد دہشت گردی کے اقدامات بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں کے مطابق ہونے چاہییں۔
بات چیت میں افغانستان اور وسیع تر خطے کی سلامتی کی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔ پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات میں علاقائی استحکام اور دہشت گرد گروہوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے مربوط بین الاقوامی کوششوں کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان انسداد دہشت گردی ڈائیلاگ وسیع تر دوطرفہ تعلقات کا حصہ ہے، جن میں تجارت، ترقیاتی تعاون، جمہوری ادارے، انسانی حقوق، موسمیاتی تبدیلی اور سلامتی بھی شامل ہیں۔ تازہ اجلاس میں فریقین نے رابطے جاری رکھنے اور مشترکہ خطرات کے خلاف عملی تعاون کو مزید آگے بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔
