اوتھل: بلوچستان میں کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر زیرو پوائنٹ کے قریب ایک مسافر کوچ اور منی بس کے آمنے سامنے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق حادثہ جمعہ کو بیلہ کے قریب پیش آیا، جہاں گوادر سے کراچی جانے والی مسافر کوچ اور بیلہ سے کراچی کی طرف روانہ منی بس آپس میں ٹکرا گئیں۔

پولیس حکام نے بتایا کہ سات مسافر موقع پر ہی جان سے گئے، جبکہ پانچ زخمی بعد میں اسپتال میں دم توڑ گئے۔ ایدھی مرکز بیلہ کے انچارج عبدالحکیم لاسی کے مطابق امدادی کارکنوں نے تقریباً 22 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا، جن میں سے متعدد کو مزید علاج کے لیے کراچی بھیجا گیا۔ سات زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔

ابتدائی معلومات کے مطابق زیادہ جانی نقصان منی بس میں ہوا۔ حکام نے فوری طور پر حادثے کی حتمی وجہ کا اعلان نہیں کیا، اس لیے رفتار، سڑک کی حالت یا ڈرائیور کی غلطی سے متعلق کسی ایک سبب کو تصدیق کے بغیر ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پولیس اور امدادی اداروں نے جائے حادثہ پر کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں اور لاشوں کو طبی مراکز منتقل کیا۔

یہ حادثہ بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں بین الاضلاعی شاہراہوں پر حالیہ مہلک حادثات کے سلسلے میں ایک اور سنگین واقعہ ہے۔ صرف دو روز قبل پنجاب کے راجن پور ضلع کی تحصیل روجھان میں انڈس ہائی وے پر مسافر بس الٹنے سے 10 افراد جاں بحق اور 44 زخمی ہوئے تھے۔ گزشتہ ماہ وندر کے قریب ایک مسافر کوچ اور ایل پی جی باؤزر کے تصادم میں بھی جانی نقصان ہوا تھا۔

کوئٹہ کراچی شاہراہ بلوچستان کی اہم ترین زمینی گزرگاہوں میں شامل ہے اور مسافر و مال بردار ٹریفک کی بڑی مقدار اس راستے سے گزرتی ہے۔ طویل فاصلے، بھاری گاڑیوں کی آمدورفت اور مختلف مقامات پر محدود حفاظتی سہولیات کے باعث سڑک کی حفاظت مسلسل عوامی تشویش کا موضوع رہی ہے۔ تازہ حادثے کے بعد متاثرہ خاندانوں کے لیے لاشوں کی شناخت، زخمیوں کے علاج اور واقعے کی وجوہات کا تعین فوری انتظامی ترجیحات ہیں۔

حادثے کی مکمل ذمہ داری یا تکنیکی وجہ کسی باضابطہ تفتیش کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔ اس مرحلے پر پولیس کی تصدیق شدہ معلومات 12 اموات اور تقریباً 22 زخمیوں کی ہیں، جبکہ شدید زخمی افراد کے علاج کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں تبدیلی کا امکان بھی موجود رہتا ہے۔