اسلام آباد: دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق سے متعلق اپنی داخلی کارروائیاں مکمل کر لی ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ معاہدہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد مشترکہ دفاع، بازدارندگی اور علاقائی استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔
ترجمان سے معاہدے کے آرٹیکل 2 کے بارے میں سوال کیا گیا، جس میں ایک فریق پر حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کرنے کی شق شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتظام دفاعی نوعیت رکھتا ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 میں تسلیم شدہ حقِ دفاع کے مطابق ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق معاہدے کو جارحانہ اتحاد کے بجائے رکن ممالک کی اجتماعی سلامتی کے فریم ورک میں دیکھا جانا چاہیے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون کی نئی سطح کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کے متن میں مشترکہ دفاع، حساس معلومات کے تحفظ اور فریقین کی ذمہ داریوں سے متعلق دفعات شامل ہیں۔ معاہدے کی تین اصل نقول ترکی، عربی اور انگریزی زبانوں میں تیار کی گئی ہیں، اور تعبیر میں اختلاف کی صورت میں انگریزی متن کو فوقیت حاصل ہوگی۔
توثیق کی تکمیل اس لیے اہم ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کے بعد اکثر متعلقہ ممالک کو اپنی داخلی آئینی یا قانونی کارروائیاں مکمل کرنا ہوتی ہیں۔ دفتر خارجہ کے تازہ بیان سے واضح ہوا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے اپنے حصے کی یہ کارروائی مکمل کر لی ہے۔ معاہدے کے عملی نفاذ اور دفاعی تعاون کی مخصوص صورتوں سے متعلق تفصیلات فریق ممالک کے آئندہ فیصلوں اور باہمی انتظامات سے سامنے آئیں گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے علاقائی سلامتی، تیل کی رسد اور دفاعی تعاون کے سوالات کو زیادہ اہم بنا دیا ہے۔ پاکستان نے حالیہ سفارتی رابطوں میں تنازعات کے پرامن حل، ریاستی خودمختاری اور علاقائی استحکام پر زور دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق مکہ معاہدہ انہی وسیع دفاعی اور سلامتی اہداف کے تناظر میں ہے، جبکہ اس کی شقوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت حقِ دفاع سے ہم آہنگ قرار دیا گیا ہے۔
