اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا میں انتظامی یونٹس کی تبدیلیوں کے بعد قومی اور صوبائی اسمبلی کے متعدد حلقوں کی تفصیل جزوی طور پر تبدیل کر دی ہے۔ الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدام اپریل 2024 سے جنوری 2026 کے دوران ریونیو اور ضلعی انتظامی حدود میں ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں کیا گیا اور الیکشن رولز 2017 کے رول 15 کا حوالہ دیا گیا ہے۔
رول 15 کے تحت انتظامی یونٹس میں تبدیلی کی صورت میں کمیشن کسی حلقے کی تفصیل دوبارہ بیان کر سکتا ہے، بشرطیکہ حلقے کی حد تبدیل نہ ہو۔ تاہم الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 22 میں حتمی حلقہ بندیوں میں ترمیم، ردوبدل یا تبدیلی کے لیے وجوہات ریکارڈ کرنے، مجوزہ تبدیلیاں سرکاری گزٹ اور ویب سائٹ پر شائع کرنے اور متعلقہ نمائندگیوں کو سننے کا طریقہ بھی درج ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق تازہ اقدام سے پہلے اعتراضات طلب کرنے کی عوامی کارروائی نہیں کی گئی، جس سے قانونی طریقۂ کار پر سوال اٹھے ہیں۔
نوٹیفکیشن میں سوات کے تین حلقوں کو نئے بار سوات ضلع کے قیام کے بعد دوبارہ بیان کیا گیا ہے۔ این اے 2 میں بحرین، خوازہ خیلہ اور چارباغ کے بعض علاقے شامل کیے گئے، این اے 3 میں مینگورہ/بابوزئی، بریکوٹ اور کبل کے منتخب پٹوار سرکل شامل ہیں، جبکہ این اے 4 میں بار سوات کا مٹہ اور کبل کے باقی متعلقہ علاقے شامل کیے گئے ہیں۔
اسی طرح ہنگو، اورکزئی، کرک، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور نئے پاہاڑپور ضلع سے متعلق بعض حلقوں کی انتظامی تفصیل بھی تبدیل کی گئی ہے۔ این اے 36 اور این اے 38 کے درمیان کرک کے دو مواضعات کی شمولیت میں ردوبدل کیا گیا، جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان اور پاہاڑپور سے متعلق این اے 43، 44 اور 45 کی تفصیلات نئی ضلعی حدود کے مطابق بیان کی گئی ہیں۔
یہ تبدیلیاں بذات خود نئی عام انتخابات کی تاریخ یا انتخابی پروگرام کا اعلان نہیں ہیں۔ اصل قانونی سوال یہ ہے کہ آیا انتظامی تبدیلیوں کی بنیاد پر صرف حلقے کی وضاحت کی گئی ہے یا عملی طور پر ایسی تبدیلی ہوئی ہے جس کے لیے دفعہ 22 کے تحت اعتراضات اور سماعت ضروری تھی۔ اس معاملے پر الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن سرکاری مؤقف فراہم کرتا ہے، جبکہ طریقۂ کار پر اٹھائے گئے اعتراضات رپورٹنگ اور قانونی تشریح کا حصہ ہیں۔
