اسلام آباد: پاکستان اور یورپی یونین نے سالانہ انسداد دہشت گردی مذاکرات کے دوران دہشت گردی کے بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ دفتر خارجہ اور معتبر پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بات چیت میں افغانستان کی سکیورٹی صورتحال، پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں، دہشت گردی کی مالی معاونت اور آن لائن انتہا پسندی سمیت متعدد موضوعات زیر بحث آئے۔

مشترکہ بات چیت میں دونوں فریقوں نے دہشت گردی کی تمام شکلوں کی مذمت کی اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ یورپی یونین نے پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں پر تشویش کا اظہار کیا، جبکہ پاکستانی وفد نے سرحد پار سکیورٹی خطرات اور افغانستان میں موجود گروہوں سے متعلق اپنے تحفظات سامنے رکھے۔

مذاکرات میں دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت روکنے، شدت پسند مواد کے آن لائن پھیلاؤ کا مقابلہ کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت بہتر بنانے جیسے عملی شعبوں پر بھی توجہ دی گئی۔ دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں کے مطابق ہونے چاہییں۔

افغانستان سے متعلق گفتگو اس لیے اہم رہی کہ پاکستان گزشتہ عرصے میں بارہا کابل میں حکام سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ افغان حکام عمومی طور پر اپنی سرزمین کے دوسرے ممالک کے خلاف استعمال ہونے کی تردید کرتے رہے ہیں۔ اس لیے سرحد پار سرگرمیوں سے متعلق مخصوص الزامات کو متعلقہ فریقوں کے مؤقف کے طور پر ہی رپورٹ کیا جانا ضروری ہے۔

پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان انسداد دہشت گردی مکالمہ ایک جاری ادارہ جاتی عمل ہے جس کا مقصد معلومات، پالیسی تجربات اور بین الاقوامی فورمز پر تعاون کو بہتر بنانا ہے۔ تازہ دور میں افغانستان اور خطے کی تیزی سے بدلتی سکیورٹی صورتحال نے مذاکرات کو اضافی اہمیت دی۔ دونوں فریقوں نے آئندہ بھی رابطہ جاری رکھنے اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔