لاہور: ضلعی انتظامیہ نے لاہور میں 12 سے 14 مارچ 2027 تک تین روزہ بسنت منانے کی باضابطہ اجازت دیتے ہوئے پتنگ بازی، پتنگ و ڈور کی تیاری، تجارت اور عوامی تحفظ سے متعلق تفصیلی شرائط جاری کر دی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر لاہور کے نوٹیفکیشن کے مطابق مقررہ تین دنوں میں ضلع لاہور میں پتنگ بازی کی اجازت ہوگی، تاہم طیاروں کی آمد و روانگی کے راستوں سمیت مخصوص ممنوعہ علاقوں میں یہ سرگرمی بدستور ممنوع رہے گی۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ صرف پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ رولز 2025 اور متعلقہ ضوابط کے تحت منظور شدہ سامان استعمال کیا جا سکے گا۔ پتنگ اور ڈور بنانے والوں، تاجروں اور فروخت کنندگان کے لیے حکومت کی ای بز ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل رجسٹریشن لازمی ہوگی۔ منظور شدہ سامان کی تیاری 5 ستمبر 2026 سے 14 مارچ 2027 تک کی جا سکے گی، جبکہ خرید، نقل و حمل اور ذخیرہ یکم فروری سے 14 مارچ تک اور عام صارفین کو فروخت 10 فروری سے 14 مارچ تک صرف رجسٹرڈ فروخت کنندگان کے ذریعے ہوگی۔

ضلعی انتظامیہ نے پتنگوں کے زیادہ سے زیادہ سائز اور ڈور کی ساخت بھی متعین کی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈور کپاس سے تیار ہوگی اور اس کی تیاری میں صرف مقررہ مواد استعمال کیا جا سکے گا۔ تیز مانجھا، دھاتی تار، نائلون یا پلاسٹک ڈور اور ایسا کوئی مادہ جو انسانی جان کے لیے خطرہ بن سکتا ہو، ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ رجسٹرڈ کاروباری افراد کو اپنا سرٹیفکیٹ نمایاں جگہ پر آویزاں کرنے اور اسٹاک، فروخت اور نقل و حرکت کا مکمل ریکارڈ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی راڈ سمیت حکومت کے مقرر کردہ حفاظتی اقدامات کی پابندی لازم ہوگی۔ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ سرکاری اداروں کو شرائط پر سختی سے عمل کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں ہوائی جہازوں کے اپروچ اور ٹیک آف راستوں کے تحت نادرآباد، گلشن علی کالونی، نشاط کالونی، بھٹہ چوک، ڈی ایچ اے کے بعض بلاکس، الفیصل ٹاؤن، جوڑے پل، تاج پورہ اور دیگر مخصوص مقامات کو ممنوعہ علاقوں میں شامل کیا گیا ہے۔

بسنت کو پنجاب میں 2007 میں مہلک ڈور اور دیگر حادثات کے باعث پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لاہور میں یہ تہوار 2026 میں طویل وقفے کے بعد سخت ضابطوں کے تحت دوبارہ منعقد ہوا۔ تازہ نوٹیفکیشن مارچ 2027 کے شیڈول کو ضلعی سطح پر باضابطہ شکل دیتا ہے اور اس کا مرکزی نکتہ تہوار کی اجازت کے ساتھ انسانی جان اور فضائی تحفظ کے لیے محدود اور قابل نگرانی فریم ورک قائم کرنا ہے۔