لاہور: ضلعی انتظامیہ نے 12 سے 14 مارچ 2027 تک لاہور میں تین روزہ بسنت کے انعقاد اور مقررہ شرائط کے تحت پتنگ بازی کی باضابطہ اجازت دے دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر لاہور کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اجازت صرف مقررہ قانونی مواد، رجسٹرڈ کاروبار اور مخصوص حفاظتی قواعد کی پابندی کے ساتھ ہوگی، جبکہ بعض حساس علاقوں میں پتنگ بازی ممنوع رہے گی۔

پنجاب میں پتنگ بازی عمومی طور پر ممنوع ہے، تاہم پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ قانون اور متعلقہ قواعد کے تحت ڈپٹی کمشنرز مخصوص دنوں اور علاقوں کے لیے مشروط اجازت دے سکتے ہیں۔ لاہور میں بسنت رواں سال طویل وقفے کے بعد بحال ہوئی تھی۔ صوبائی حکومت نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ اگلی تقریبات 12، 13 اور 14 مارچ 2027 کو ہوں گی، جسے اب ضلعی نوٹیفکیشن کے ذریعے باضابطہ شکل دے دی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق قانونی پتنگ سازی کے مواد کی تیاری کے لیے ڈیجیٹل رجسٹریشن ضروری ہوگی۔ تجارت، نقل و حمل اور ذخیرہ بھی مقررہ مدت میں صرف رجسٹرڈ افراد یا ادارے کر سکیں گے، جبکہ عام صارفین کو فروخت بھی رجسٹرڈ فروخت کنندگان کے ذریعے ہوگی۔ پتنگ اور گڈے کے زیادہ سے زیادہ سائز مقرر کیے گئے ہیں اور ڈور کے لیے بھی کپاس، دھاگوں کی تعداد اور قابل اجازت مانجھا مواد کی حدود طے کی گئی ہیں۔

انتظامیہ نے چرخیاں، تیز دھار مانجھا، دھاتی تار، نائلون یا پلاسٹک کی ڈور اور نقصان دہ مواد سے تیار کسی بھی دھاگے کی تیاری، خرید و فروخت، ذخیرہ، نقل و حمل، ملکیت اور استعمال پر پابندی برقرار رکھی ہے۔ رجسٹرڈ مینوفیکچررز، تاجروں اور فروخت کنندگان کو اپنے سرٹیفکیٹ نمایاں جگہ پر آویزاں کرنے اور اسٹاک، فروخت اور سامان کی نقل و حرکت کا مکمل ریکارڈ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

حفاظتی ضوابط کے تحت موٹر سائیکل سواروں کے لیے مقررہ سیفٹی راڈ سمیت حکومتی ہدایات پر عمل ضروری ہوگا۔ لاہور میں طیاروں کے لینڈنگ اور ٹیک آف راستوں سے منسلک متعدد علاقوں میں پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہوگی، جن میں نادرآباد، گلشن علی کالونی، نشاط کالونی، بھٹہ چوک، ڈی ایچ اے کے بعض بلاکس، الفیصل ٹاؤن، جوڑے پل، کینال بینک روڈ کے مخصوص حصے اور تاج پورہ شامل ہیں۔

لاہور میں بسنت پر 2007 میں تیز ڈور، حادثات اور ہوائی فائرنگ سے جانی نقصان کے بعد پابندی عائد کی گئی تھی۔ نئی پالیسی میں انتظامیہ کا زور رجسٹریشن، قابل اجازت مواد، محدود مدت اور ممنوعہ علاقوں کے ذریعے تقریبات کو ضابطے میں رکھنے پر ہے۔ تمام متعلقہ محکموں اور پولیس کو عوامی تحفظ یقینی بنانے کے لیے قواعد پر سخت عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔