اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے بلدیاتی قانون میں مجوزہ ترامیم نے 20 دسمبر کو طے شدہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کے انعقاد کے بارے میں نئی غیر یقینی پیدا کر دی ہے۔ قومی اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی کی رپورٹ میں موجودہ بلدیاتی ڈھانچے میں تبدیلی کرتے ہوئے اسلام آباد میں تین ٹاؤن کارپوریشنز قائم کرنے، ان کے الگ میئر منتخب کرنے اور عبوری انتظامی اختیارات میں تبدیلی کی تجاویز شامل ہیں۔

یہ پیش رفت الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کیے جانے کے ایک روز بعد سامنے آئی۔ مجوزہ قانونی تبدیلیاں اگر انتخابی عمل کے دوران منظور اور نافذ ہوتی ہیں تو حلقہ بندیوں، ادارہ جاتی ڈھانچے، عہدوں اور انتخابی طریقہ کار پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم صرف کمیٹی رپورٹ سامنے آنے سے انتخابات خودکار طور پر ملتوی نہیں ہوتے؛ کسی بھی عملی تبدیلی کے لیے قانون سازی اور متعلقہ آئینی و انتخابی تقاضوں کی تکمیل ضروری ہوگی۔

کمیٹی رپورٹ میں وفاقی دارالحکومت کے لیے تین ٹاؤن کارپوریشنز کا ماڈل تجویز کیا گیا ہے۔ اس سے ایک مرکزی بلدیاتی ڈھانچے کے بجائے مختلف جغرافیائی حصوں میں الگ انتظامی اور منتخب قیادت قائم ہونے کا امکان پیدا ہوگا۔ میئرز کے اختیارات، منتخب نمائندوں اور سرکاری انتظامیہ کے تعلق اور عبوری مدت میں ایڈمنسٹریٹرز کے کردار سے متعلق تجاویز بھی نئے نظام کا اہم حصہ ہیں۔

اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کئی برس سے قانونی ترامیم، حلقہ بندیوں اور انتظامی تبدیلیوں کے باعث تاخیر اور عدالتی و انتخابی تنازعات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں تازہ تجاویز کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، کیونکہ انتخابی شیڈول جاری ہونے کے بعد بنیادی قانونی فریم ورک میں تبدیلی امیدواروں، ووٹرز اور الیکشن کمیشن کے لیے عملی سوالات پیدا کر سکتی ہے۔

آئندہ مرحلے میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ قومی اسمبلی مجوزہ ترامیم پر کب اور کس شکل میں کارروائی کرتی ہے اور الیکشن کمیشن ان تبدیلیوں کے ممکنہ اثرات کا کیا جائزہ لیتا ہے۔ فی الحال 20 دسمبر کا انتخابی شیڈول اپنی جگہ موجود ہے، جبکہ کمیٹی رپورٹ نے ایک متبادل بلدیاتی ساخت تجویز کی ہے۔ انتخابات میں کسی تاخیر یا نئے شیڈول کو اس وقت تک حتمی نہیں سمجھا جا سکتا جب تک مجاز ادارہ باقاعدہ فیصلہ یا نوٹیفکیشن جاری نہ کرے۔