سینیٹ کے اجلاس میں 23 اکتوبر کو ملک میں ایندھن کی مستقبل کی دستیابی پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور ارکان نے حکومت سے پوچھا کہ آیا دسمبر تک پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی رہے گی۔ بحث کے دوران عالمی تیل منڈی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں ممکنہ قلت، راشننگ اور حکومت کے ہنگامی انتظامات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔ حکومت کی جانب سے ایوان کو بتایا گیا کہ فی الحال پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے مطالبہ کیا کہ حکومت پارلیمان کو کسی ممکنہ راشننگ یا متبادل انتظام کے بارے میں اعتماد میں لے۔ اپوزیشن ارکان نے بھی اس بات پر زور دیا کہ عالمی حالات کے باعث اگر درآمدی رسد متاثر ہوتی ہے تو حکومت کو پیشگی منصوبہ بندی کی تفصیلات واضح کرنی چاہییں۔ ارکان کی تشویش کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ ایندھن کی دستیابی صرف قیمت کا مسئلہ نہیں بلکہ ٹرانسپورٹ، صنعت اور روزمرہ معاشی سرگرمیوں کے تسلسل سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔

حکومتی نمائندے نے ایوان میں سپلائی کے فوری بحران کے تاثر کی نفی کی اور کہا کہ موجودہ وقت میں ایندھن کی فراہمی برقرار ہے۔ تاہم سینیٹرز نے اس بات پر زور دیا کہ تیزی سے بدلتی عالمی صورتحال میں صرف موجودہ ذخائر کی کیفیت نہیں بلکہ آئندہ ہفتوں اور مہینوں کے درآمدی انتظامات بھی اہم ہیں۔

یہ بحث اسی روز ہوئی جب حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1 روپے 91 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا اور پٹرول کی قیمت 377 روپے 71 پیسے برقرار رکھی۔ حکومت اس سے پہلے بڑھتی عالمی قیمتوں کے جواب میں توانائی بچت کے اقدامات بھی نافذ کر چکی ہے، جن میں سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کوٹے میں کمی اور بازاروں کے اوقات محدود کرنا شامل ہے۔ سینیٹ میں ہونے والی بحث سے واضح ہوا کہ پارلیمانی توجہ اب قیمتوں کے ساتھ ساتھ رسد کے تسلسل اور ہنگامی تیاری پر بھی مرکوز ہے۔