اسلام آباد: پاکستان کو یورپی یونین کی نئی جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے سخت جانچ اور دوبارہ درخواست کے مرحلے سے گزرنا ہوگا، جبکہ یورپی یونین نے واضح کیا ہے کہ موجودہ تجارتی رعایتوں کا نئی اسکیم میں خودکار تسلسل یقینی نہیں سمجھا جا سکتا۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق پاکستان موجودہ انتظام کے تحت جی ایس پی پلس کے فوائد 2028 کے اختتام تک حاصل کرتا رہ سکتا ہے، تاہم اس مدت کا مطلب یہ نہیں کہ ملک نئی اسکیم میں بغیر کسی نئی جانچ کے شامل ہو جائے گا۔ یورپی یونین پاکستان کے ساتھ ان بین الاقوامی کنونشنز پر مؤثر عملدرآمد کے معاملے پر رابطے میں ہے جو جی ایس پی پلس اہلیت سے متعلق ہیں۔

جی ایس پی پلس پاکستان کی برآمدی معیشت، خصوصاً یورپی منڈی کو ٹیکسٹائل اور دیگر مصنوعات کی رسائی کے لیے اہم تجارتی فریم ورک ہے۔ اس اسکیم کے تحت اہل ممالک کو متعدد مصنوعات پر ترجیحی ٹیرف رسائی ملتی ہے، لیکن اس کے ساتھ انسانی حقوق، مزدور حقوق، ماحولیات اور گورننس سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پابندی بھی دیکھی جاتی ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے یورپی یونین کی حالیہ assessment کے بعض پہلوؤں پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی کارکردگی کی تصویر مناسب توازن کے ساتھ پیش نہیں کی گئی۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ پاکستان نے متعلقہ کنونشنز پر عملدرآمد کے لیے اقدامات کیے ہیں اور وہ یورپی اداروں کے ساتھ بات چیت جاری رکھے گا۔

تجارتی اعتبار سے نئی درخواست کا نتیجہ پاکستان کے برآمد کنندگان اور پالیسی سازوں کے لیے اہم ہوگا کیونکہ یورپی یونین ملک کی بڑی برآمدی منڈیوں میں شامل ہے۔ کسی بھی حتمی فیصلے تک موجودہ فوائد برقرار رہنے کے باوجود حکومت کو قانونی اصلاحات، ادارہ جاتی عملدرآمد اور یورپی یونین کے اٹھائے گئے نکات پر پیش رفت دکھانا ہوگی۔

یہ معاملہ ابھی کسی حتمی منظوری یا مسترد ہونے کا فیصلہ نہیں ہے بلکہ آئندہ اسکیم کے لیے اہلیت، نگرانی اور دوبارہ درخواست سے متعلق جاری عمل کا حصہ ہے۔ اس لیے جی ایس پی پلس کے مستقبل کے بارے میں قطعی نتیجہ یورپی یونین کے باضابطہ جائزے اور فیصلے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔