اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نئی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 12 روپے 90 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 72 پیسے اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 8 ستمبر 2026 سے کیا گیا ہے۔

اعلان کے بعد پٹرول کی خوردہ قیمت 358 روپے 77 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 381 روپے 77 پیسے فی لیٹر فروخت ہوگا۔ یہ تبدیلی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال خام تیل اور ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔

سرکاری تفصیلات کے مطابق قیمتوں کا تعین متعلقہ حکومتی طریقہ کار کے تحت کیا گیا۔ پٹرول عام طور پر موٹر سائیکلوں، کاروں اور دیگر نجی ٹرانسپورٹ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں نمایاں اضافہ براہِ راست شہری سفری اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل مال بردار گاڑیوں، بسوں، زرعی مشینری اور بعض صنعتی سرگرمیوں میں استعمال ہوتا ہے، جس کی قیمت میں تبدیلی نقل و حمل اور پیداواری لاگت کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق حکومت پٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی مد میں وصول کر رہی ہے۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا کہ حالیہ مہینوں کے دوران عالمی تنازع کے باعث ڈیزل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، اگرچہ موجودہ قیمت اپریل میں ریکارڈ کی گئی بلند سطح سے کم ہے۔

قیمتوں میں تازہ اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ، زراعت اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل سے وابستہ شعبے نئی لاگت کا جائزہ لیں گے۔ تاہم کسی مخصوص کرائے، اشیائے خورونوش کی قیمت یا مہنگائی کی شرح میں ممکنہ تبدیلی کے بارے میں سرکاری اعلان سامنے آئے بغیر حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ نئی سرکاری قیمتیں فی الحال ملک بھر میں صارفین کے لیے بنیادی حوالہ ہوں گی۔