کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو شدید مندی دیکھی گئی اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دورانِ کاروبار 2,145.44 پوائنٹس کم ہو کر 171,490.63 پوائنٹس کی سطح تک آ گیا۔ گزشتہ کاروباری سیشن میں انڈیکس 173,636.07 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ مارکیٹ میں دباؤ ایسے وقت میں بڑھا جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے عالمی تیل کی قیمتوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق آزاد سرمایہ کاری و معاشی تجزیہ کار اے اے ایچ سومرو نے منفی رجحان کو ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حوثیوں کے حملوں سے جوڑا۔ ان کے مطابق خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچنے سے نئی سرمایہ کاری کے رجحان پر دباؤ پڑ رہا ہے اور مارکیٹ میں محتاط رویہ غالب ہے۔
یمن کے حوثیوں نے منگل کو جنوبی سعودی عرب کے چار شہروں میں حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں ڈرونز اور میزائل استعمال کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ سعودی حکام کے مطابق ان حملوں میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے اور بعض تیل تنصیبات میں آگ لگی۔ حملوں کے اہداف میں خمیس مشیط، ابہا، نجران اور جازان کے مقامات شامل بتائے گئے۔ ان پیش رفتوں نے خطے میں توانائی کی فراہمی اور سمندری تجارت سے متعلق خدشات کو مزید بڑھایا۔
اگست میں نسبتاً سکون کے بعد خلیج میں دوبارہ لڑائی بڑھنے سے ایران اور امریکا کے درمیان حملوں کا تبادلہ شروع ہوا، جس کے نتیجے میں عالمی خام تیل کی قیمتوں میں تیزی آئی۔ برینٹ کروڈ منگل کو دو فیصد سے زیادہ بڑھ کر 99 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا۔ پاکستان جیسی تیل درآمد کرنے والی معیشت کے لیے عالمی قیمتوں میں اضافہ درآمدی بل، مہنگائی، کرنسی اور مالیاتی پالیسی سے متعلق خدشات کو بڑھا سکتا ہے، اسی لیے توانائی کی قیمتوں کی تبدیلی کا مقامی حصص بازار پر فوری اثر پڑتا ہے۔
اسٹاک مارکیٹ کی روزانہ نقل و حرکت کئی عوامل سے متاثر ہوتی ہے، اس لیے ایک سیشن کی کمی کو طویل مدتی رجحان کا حتمی اشارہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ تاہم منگل کی بڑی گراوٹ نے واضح کیا کہ علاقائی جغرافیائی کشیدگی اور عالمی تیل کی منڈی کی تیزی نے سرمایہ کاروں کے خطرہ مول لینے کے رجحان کو کم کیا ہے۔
مارکیٹ کی اگلی سمت کا انحصار مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں، روپے کی قدر اور مقامی معاشی اشاریوں پر ہوگا۔ اگر توانائی کی قیمتیں بلند رہیں یا خطے میں حملوں کا دائرہ مزید وسیع ہوا تو پاکستانی ایکویٹی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان بڑھ سکتا ہے، جبکہ کشیدگی میں کمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو سہارا دے سکتی ہے۔




