اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے مسابقتی بجلی تجارت کے نظام میں حصہ لینے والے بلک پاور صارفین کے لیے تقسیم کار کمپنیوں کے سسٹم استعمال کرنے کے چارجز کے یکساں اطلاق سے متعلق فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ نیپرا کی ویب سائٹ پر 7 ستمبر 2026 کو شائع فیصلے اور معتبر رپورٹ کے مطابق مختلف تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین کے لیے استعمالِ نظام کے چارجز 6.23 روپے سے 19.62 روپے فی یونٹ کی حدود میں ہوں گے۔

یہ فیصلہ پاکستان میں مسابقتی ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ کے عملی نفاذ کی جانب ایک اہم ریگولیٹری قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت اہل بڑے صارفین روایتی تقسیم کار کمپنی سے بجلی خریدنے کے بجائے مسابقتی سپلائر سے معاہدہ کر سکیں گے، تاہم بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے موجودہ نیٹ ورک کے استعمال کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔ نیپرا کا حالیہ فیصلہ اسی نیٹ ورک کے استعمال سے متعلق چارجز کے اصول اور یکساں اطلاق کو واضح کرتا ہے۔

دستیاب تفصیلات کے مطابق اس منظوری سے 400 میگاواٹ کے ابتدائی اوپن ایکسس بجلی نیلامی عمل کی ایک اہم رکاوٹ بھی دور ہوئی ہے۔ اوپن ایکسس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مخصوص معیار پر پورا اترنے والے بڑے صارفین کو بجلی کے ذرائع کے انتخاب میں زیادہ گنجائش ملے اور جنریشن کمپنیوں یا مسابقتی سپلائرز کے لیے نئے خریداروں تک رسائی ممکن ہو۔

نیپرا نے اس معاملے میں وفاقی حکومت کی موشن اور پالیسی گائیڈ لائنز پر غور کے بعد فیصلہ جاری کیا۔ ریگولیٹر کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی 7 ستمبر کو "Uniform Application of Use of System Charges" سے متعلق اتھارٹی کا فیصلہ درج ہے، جس سے اس پیش رفت کی بنیادی ریگولیٹری تصدیق ہوتی ہے۔

اگرچہ یہ منظوری مسابقتی مارکیٹ کے لیے اہم ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پورا ریٹیل بجلی بازار فوری طور پر آزاد ہو گیا ہے۔ عملی منتقلی کے لیے نیلامی، اہل صارفین، سپلائر لائسنسنگ، میٹرنگ، سیٹلمنٹ اور نیٹ ورک قواعد سمیت متعدد انتظامی اور تکنیکی مراحل مکمل ہونا باقی رہ سکتے ہیں۔ اس لیے حالیہ پیش رفت کو مکمل مارکیٹ لانچ کے بجائے بنیادی ریگولیٹری ڈھانچے کی ایک اہم منظوری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔