گوادر: پاکستان اور عمان نے گوادر پورٹ اور عمان کی صحار پورٹ کو سسٹر پورٹس کے طور پر جوڑنے کے منصوبے پر پیش رفت کرتے ہوئے تجارت، شپنگ، لاجسٹکس اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ یہ گفتگو گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین نور الحق بلوچ اور عمان کے قونصل جنرل سمی عبداللہ سالم الخنجری کے درمیان ملاقات میں ہوئی۔
ملاقات میں مجوزہ سسٹر پورٹ انتظام کو ایک ایسے براہ راست بحری رابطے کے طور پر دیکھا گیا جو چین پاکستان اقتصادی راہداری کو خلیجی اور وسط ایشیائی منڈیوں سے زیادہ مؤثر انداز میں جوڑ سکتا ہے۔ حکام کے مطابق اس انتظام سے دونوں بندرگاہوں کے درمیان کارگو کی نقل و حرکت بہتر بنانے، ٹرانزٹ وقت کم کرنے اور علاقائی تجارتی روابط کو مضبوط کرنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔
دونوں فریقوں نے گوادر اور عمان کے درمیان فضائی رابطے کے امکان پر بھی بات کی۔ زیر غور تصور کے مطابق سلام ایئر کے ذریعے نئے گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے براہ راست پروازوں کا راستہ کھولا جا سکتا ہے، جس سے کاروباری سفر اور مسافروں کی آمدورفت میں سہولت پیدا ہوگی۔ تاہم دستیاب معلومات کے مطابق اس مرحلے پر فضائی رابطہ بھی زیر بحث تجویز ہے اور اس کے آغاز کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا۔
ملاقات میں گوادر فری زون میں عمانی سرمایہ کاری، لاجسٹکس، ویئرہاؤسنگ اور ماہی گیری کے شعبوں میں ممکنہ مشترکہ منصوبوں پر بھی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ پورٹ مینجمنٹ، ڈریجنگ، ڈیجیٹل پورٹ آپریشنز اور بندرگاہی عملے کی استعداد کار بڑھانے کے لیے تکنیکی تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
دونوں حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مجوزہ مفاہمتی یادداشت کو متعلقہ وزارتوں کے ذریعے آئندہ ہفتوں میں حتمی شکل دینے کے لیے کام آگے بڑھایا جائے گا۔ عمانی قونصل جنرل نے مجوزہ تعاون کے فریم ورک کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے ملک کی حمایت کا یقین دلایا۔
یہ پیش رفت پاکستان کی اس وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس کے تحت گوادر کو علاقائی ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ مرکز کے طور پر زیادہ فعال بنایا جا رہا ہے۔ البتہ سسٹر پورٹ معاہدہ ابھی حتمی نفاذ کے مرحلے میں نہیں پہنچا، اس لیے موجودہ صورتحال کو مذاکرات اور مفاہمتی عمل میں پیش رفت کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔




