اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے بلک پاور صارفین اور دیگر اوپن ایکسس صارفین کے لیے یکساں یوز آف سسٹم چارجز کی منظوری دے دی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق 7 ستمبر کو جاری فیصلے کا مقصد مسابقتی ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ، CTBCM، کے تحت مختلف سپلائرز سے بجلی لینے والے اہل صارفین کے لیے گرڈ استعمال کی یکساں بنیاد قائم کرنا ہے۔

منظور شدہ ڈھانچے میں مسابقتی وہیلنگ نیلامی میں حصہ لینے والے صارفین کے لیے کیٹیگری کے مطابق متغیر گرڈ چارجز 6.23 روپے سے 19.62 روپے فی یونٹ تک رکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ منظور شدہ لوڈ کی بنیاد پر ایک روپیہ فی کلوواٹ ماہانہ فکسڈ گرڈ چارج بھی لاگو ہوگا۔ چارجز میں ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور کراس سبسڈی کے اجزا شامل ہیں، جبکہ بعض اوپن ایکسس صارفین پر اسٹرینڈڈ کاسٹ الگ لاگو ہو سکتی ہے۔

نیپرا کا فیصلہ وفاقی حکومت کی درخواست اور پالیسی رہنمائی کے بعد سامنے آیا۔ حکام کے مطابق یکساں چارجز کا مقصد سابق واپڈا تقسیم کار کمپنیوں اور کے الیکٹرک کے علاقوں میں اوپن ایکسس کے لیے ایک نسبتاً ہم آہنگ فریم ورک بنانا ہے۔ پاور ڈویژن نے اسے بجلی کے روایتی سنگل بائر ماڈل سے زیادہ مسابقتی مارکیٹ کی طرف منتقلی کا اہم ریگولیٹری مرحلہ قرار دیا ہے۔

مسابقتی بجلی مارکیٹ کا تصور بڑے اہل صارفین کو مقررہ قواعد کے تحت متبادل سپلائر سے بجلی خریدنے کا راستہ فراہم کرتا ہے، تاہم انہیں قومی یا تقسیم کار گرڈ استعمال کرنے کے اخراجات ادا کرنا ہوتے ہیں۔ اس لیے گرڈ چارجز کی سطح مارکیٹ میں شرکت کی معاشی کشش کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

فیصلے کے عملی نتائج کا انحصار آئندہ نیلامیوں، اہل صارفین کی شرکت، سپلائرز کی پیشکشوں اور نیٹ ورک کے دیگر اخراجات پر ہوگا۔ منظوری سے ریگولیٹری رکاوٹ کا ایک اہم حصہ دور ہوا ہے، مگر مکمل مسابقتی مارکیٹ کی کامیابی کے لیے شفاف معاہدوں، قابل اعتماد میٹرنگ، تصفیے کے نظام اور گرڈ کی تکنیکی صلاحیت بھی ضروری رہے گی۔