اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ستمبر 2027 میں پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے لیے 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کی خاطر 6.6 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کر لی ہے۔ وزارت خزانہ کے 7 ستمبر 2026 کے سرکاری اعلامیے کے مطابق اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کی۔

کابینہ ڈویژن نے ای سی سی کے سامنے 12.6 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی درخواست رکھی تھی، جس کا مقصد سربراہان مملکت کی نقل و حرکت کے لیے 50 سے زائد بلٹ پروف گاڑیاں خریدنا تھا۔ کمیٹی نے تجویز پر تفصیلی غور کے بعد فوری طور پر 6.6 ارب روپے منظور کیے، جن سے 30 گاڑیاں خریدی جائیں گی۔ ای سی سی نے کابینہ ڈویژن کو ہدایت کی کہ اگر مزید گاڑیوں کی ضرورت ہو تو پہلے جامع ضرورت کا تجزیہ کیا جائے اور اضافی مطالبہ دوبارہ کمیٹی کے سامنے لایا جائے۔

سرکاری اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان ستمبر 2027 میں ایس سی او سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ اس تناظر میں گاڑیوں کی خریداری کو اجلاس کے دوران غیر ملکی سربراہان اور اعلیٰ سطح کے وفود کی محفوظ نقل و حرکت کے انتظامات کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ تاہم منظور شدہ رقم اصل 12.6 ارب روپے کی درخواست سے کم ہے، اور باقی ممکنہ خریداری کو ضرورت کے مزید جائزے سے مشروط کیا گیا ہے۔

اسی ای سی سی اجلاس میں دیگر معاشی اور انتظامی فیصلے بھی کیے گئے، جن میں دو کھاد ساز اداروں کو 30 ستمبر تک موجودہ انتظام کے تحت گیس فراہمی جاری رکھنے کی منظوری، دانش اسکولز اتھارٹی فنڈ کے لیے 5 ارب روپے بطور سیڈ منی، اور گوادر فری زون سے گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد سے متعلق تجویز کی منظوری شامل تھی۔ تمباکو کی کم از کم اشاریہ قیمت اور سیس شرحوں سے متعلق ایک تجویز ناکافی جواز کی بنا پر موخر کر دی گئی۔

بلٹ پروف گاڑیوں سے متعلق فیصلہ مکمل خریداری کے بجائے ایک مالی منظوری ہے؛ اب متعلقہ سرکاری اداروں کو خریداری کے قواعد، ضرورت، تکنیکی خصوصیات اور عمل درآمد کے مراحل مکمل کرنا ہوں گے۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو 30 گاڑیوں کے لیے بجٹ کی منظوری کے طور پر بیان کرنا درست ہے، نہ کہ تمام مطلوبہ گاڑیوں کی فوری خرید مکمل ہو جانے کے طور پر۔