یریوان: پاکستان اور آرمینیا کے درمیان گزشتہ برس سفارتی تعلقات کے باضابطہ قیام کے بعد پاکستان کے پہلے سفیر نے آرمینیائی صدر کو اپنی اسنادِ سفارت پیش کر دی ہیں۔ سفیر شفقت علی خان نے یریوان کے صدارتی محل میں صدر واہگن خاچاتوریان سے ملاقات کے دوران لیٹرز آف کریڈنس پیش کیے، جس کے ساتھ دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات میں سفیر کی سطح پر عملی نمائندگی کا ایک نیا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔
جیو نیوز کے مطابق شفقت علی خان اس وقت متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر ہیں اور انہیں آرمینیا کے لیے غیر مقیم سفیر کی اضافی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔ پاکستان اور آرمینیا نے اگست 2025 میں مشترکہ اعلامیے پر دستخط کر کے باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ اس وقت نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے آرمینیائی ہم منصب ارارات مرزویان کے ساتھ تعلقات کے قیام کا اعلان کیا تھا۔
اسناد پیش کرنے کی تقریب میں آرمینیا کے صدر نے پاکستانی سفیر کو تقرری پر مبارک باد دی اور دوطرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ سفیر شفقت علی خان نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے خیرسگالی کے پیغامات پہنچائے اور آرمینیا کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق دونوں جانب سے تجارت اور سرمایہ کاری، تعلیم، ثقافت، عوامی روابط اور دیگر اقتصادی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر زور دیا گیا۔ یہ شعبے اس لیے بھی اہم ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان رسمی سفارتی تعلقات نسبتاً نئے ہیں اور ابھی مختلف ادارہ جاتی و تجارتی رابطوں کے قیام کی گنجائش موجود ہے۔
یریوان میں اپنے دورے کے دوران پاکستانی سفیر نے آرمینیا کے وزیر خارجہ اور نائب وزیر خارجہ سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ ایجنڈے، باہمی تعاون کے ممکنہ شعبوں اور علاقائی و بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سفیر نے نائب وزیر خارجہ کو اپنی اسناد کی نقل بھی پیش کی۔
پاکستان اور آرمینیا کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ دونوں ملکوں کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم تبدیلی سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس سے قبل ان کے درمیان مکمل سفارتی روابط موجود نہیں تھے۔ نئی سفارتی نمائندگی کے بعد اب توجہ اس بات پر ہوگی کہ سیاسی رابطوں کے ساتھ تجارت، تعلیم، ثقافت اور سرمایہ کاری میں عملی تعاون کس رفتار سے آگے بڑھتا ہے۔




