اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے پاکستان میں پہلی بین الاقوامی 3D پرنٹنگ کانفرنس کا افتتاح کیا ہے۔ کانفرنس کا مقصد ایڈیٹو مینوفیکچرنگ، جدید ڈیزائن، تحقیق اور صنعتی پیداوار میں 3D پرنٹنگ کے استعمال پر ماہرین، جامعات، محققین اور صنعت کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے۔

3D پرنٹنگ یا ایڈیٹو مینوفیکچرنگ میں کمپیوٹر ڈیزائن کی بنیاد پر مواد کی تہیں جوڑ کر پرزے اور مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔ دنیا بھر میں یہ ٹیکنالوجی انجینئرنگ، طبی آلات، آٹو موبائل، ایرو اسپیس، تعمیرات اور تیز رفتار پروٹوٹائپنگ میں استعمال ہو رہی ہے۔ پاکستان میں اس شعبے کی تحقیق اور صنعتی پیمانے پر استعمال ابھی محدود ہے، جس کی وجہ سے مہارت، مشینری، مواد اور معیارات کی ترقی کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔

کانفرنس کے ذریعے مقامی محققین کو بین الاقوامی ماہرین کے تجربات سے استفادہ، مشترکہ تحقیق اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے امکانات تلاش کرنے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے جدید مینوفیکچرنگ کو برآمدات، پیداواری صلاحیت اور تکنیکی خود انحصاری کے وسیع تر اہداف سے جوڑنے پر زور دیا گیا ہے۔ جامعات اور صنعت کے درمیان رابطہ مضبوط ہونے سے تحقیق کو تجارتی مصنوعات اور عملی حل میں تبدیل کرنے کی رفتار بڑھ سکتی ہے۔

احسن اقبال نے حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹر ڈیزائن، ڈیجیٹل مہارت اور جدید صنعتی ٹیکنالوجیوں کو پاکستان کی مستقبل کی معیشت کے اہم شعبوں کے طور پر پیش کیا ہے۔ 3D پرنٹنگ کانفرنس اسی پالیسی سمت کا حصہ ہے جس میں نئی ٹیکنالوجیوں کے لیے انسانی وسائل، تحقیق اور صنعتی شراکت داری کو بیک وقت فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کانفرنس کا انعقاد بذات خود صنعتی تبدیلی کی ضمانت نہیں؛ اس کے نتائج کا انحصار تحقیق کے لیے مستقل فنڈنگ، جدید مشینری تک رسائی، مقامی مواد کی تیاری، معیار بندی، دانشورانہ ملکیت کے تحفظ اور نجی صنعت کی سرمایہ کاری پر ہوگا۔ تاہم پہلی بین الاقوامی کانفرنس اس شعبے کو قومی سطح پر منظم بحث اور تعاون کے دائرے میں لانے کی ایک نمایاں پیش رفت ہے۔