کراچی: سندھ کے محکمہ صحت نے صوبے کے 18 بنیادی صحت مراکز میں ڈیجیٹل ڈیٹا سسٹم فعال کردیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام سرکاری بنیادی صحت خدمات میں کاغذی کارروائی کم کرنے، مریضوں کا ریکارڈ بہتر بنانے اور مختلف طبی مراکز کے درمیان معلومات کے تبادلے کو زیادہ مؤثر بنانے کے وسیع منصوبے کا پہلا مرحلہ ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق فروری 2027 تک 150 صحت مراکز کو ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 2028 کی پہلی سہ ماہی تک تمام بنیادی صحت مراکز کو اس پروگرام میں شامل کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ اصلاحات کا ایک اہم جزو الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ نظام ہے جس میں مریض کی طبی تاریخ، او پی ڈی دورے، ادویات کی فراہمی، ایمرجنسی خدمات، زچہ و بچہ صحت، غذائیت اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق معلومات محفوظ کی جائیں گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ مشترکہ ڈیجیٹل ریکارڈ سے مختلف طبی سہولتوں کے درمیان رابطہ بہتر ہوگا اور مریض کو بار بار ایک ہی معلومات فراہم کرنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔ تاہم ایسے نظام کی کامیابی کے لیے قابل اعتماد انٹرنیٹ، تربیت یافتہ عملہ، ڈیٹا کی درستگی اور مریضوں کی معلومات کے تحفظ کے مضبوط انتظامات بھی ضروری ہوں گے۔
محکمہ صحت نے انتظامی امور کے لیے ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم بھی نافذ کیا ہے۔ گریڈ 16 سے 20 تک افسران اور ملازمین کی چھٹیوں، منظوریوں، تبادلوں اور بعض انتظامی معاملات کو ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے پراسیس کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق ستمبر اور اکتوبر 2026 کے دوران 700 سے زیادہ چھٹی کی درخواستیں اسی پورٹل پر نمٹائی گئیں۔
لیڈی ہیلتھ ورکرز کی ڈیجیٹل رجسٹریشن اور جغرافیائی نقشہ بندی بھی مکمل کیے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی کارکردگی، حفاظتی ٹیکہ جات، غذائیت اور خواتین کی صحت سے متعلق خدمات کو موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے روزانہ بنیاد پر مانیٹر کرنے کا ارادہ ہے۔
عالمی بینک کی معاونت سے جاری 1,000 ڈیز پروگرام کے تحت سیلاب سے متاثرہ اور دیگر اضلاع میں 340 طبی سہولتوں کی تعمیر نو یا بحالی کی نگرانی بھی ڈیجیٹل ذرائع سے کی جا رہی ہے۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ آئندہ مرحلوں میں ویکسینیشن ڈیش بورڈ، طبی آلات کی انوینٹری، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور اعضا کی پیوندکاری سے متعلق پورٹل بھی ڈیجیٹل اصلاحات کا حصہ ہوں گے۔ ان اہداف کی عملی تکمیل طے شدہ مدت میں انفراسٹرکچر، عملے کی تربیت اور ڈیٹا گورننس کے معیار پر منحصر ہوگی۔

