وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کا پہلا خلا باز 25 نومبر 2026 کو چین کے خلائی مرکز سے خلائی مشن پر روانہ ہوگا۔ انہوں نے یہ بات نارووال میں ورلڈ اسپیس ویک کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان نے اس اعلان کو پاکستان کے خلائی پروگرام کی اہم پیش رفت کے طور پر رپورٹ کیا ہے۔
پاکستان اور چین خلائی سائنس اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی میں کئی برسوں سے تعاون کر رہے ہیں۔ پاکستان کے مواصلاتی اور ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس کی تیاری اور لانچ میں بھی چینی اداروں کا کردار رہا ہے۔ انسانی خلائی پرواز اس تعاون کی ایک نئی سطح ہوگی، کیونکہ اس میں خلا باز کی انتخابی تربیت، طبی تیاری، مشن پروٹوکول اور زمینی کنٹرول کے ساتھ انتہائی پیچیدہ رابطہ شامل ہوتا ہے۔
احسن اقبال کے بیان کے مطابق مشن کی روانگی کے لیے 25 نومبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ تاہم سرکاری رپورٹ میں خلائی جہاز، مشن کی متوقع مدت، مدار، خلا باز کی شناخت یا سائنسی تجربات کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ ان امور کی حتمی تصدیق متعلقہ پاکستانی اور چینی خلائی اداروں کی تفصیلی مشن بریفنگ سے ہوگی۔
انسانی خلائی پرواز پاکستان کے لیے سائنسی علامت سے بڑھ کر افرادی قوت اور تحقیق کا موقع بھی بن سکتی ہے۔ ایسے پروگرام نوجوان انجینئرز، فزکس، میٹریل سائنس، بائیومیڈیکل تحقیق، روبوٹکس اور سیٹلائٹ انجینئرنگ میں دلچسپی بڑھاتے ہیں۔ لیکن خلائی پروگرام کی طویل مدتی قدر کا تعین اس بات سے ہوگا کہ مشن کے بعد حاصل شدہ علم کو مقامی تحقیق، جامعات اور صنعتی صلاحیت میں کس حد تک منتقل کیا جاتا ہے۔
پاکستان کا خلائی ادارہ سپارکو پہلے ہی سیٹلائٹ پروگرام اور زمینی مشاہداتی نظام پر کام کرتا ہے۔ پہلے پاکستانی خلا باز کی پرواز، اگر اعلان کردہ شیڈول کے مطابق مکمل ہوتی ہے، تو ملک کے خلائی پروگرام میں ایک تاریخی سنگِ میل ہوگی۔ مشن سے قبل تربیت، عملے کی حتمی فہرست اور تکنیکی تفصیلات کے مزید سرکاری اعلانات متوقع ہیں۔
