اقوام متحدہ کا انسٹی ٹیوٹ فار ڈس آرمامنٹ ریسرچ فوجی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات پر بین الاقوامی سطح پر مستقل مکالمہ شروع کرنے کے لیے ایک نیا اقدام متعارف کرا رہا ہے۔ ادارے کا سینٹر آف ایکسی لینس آن اے آئی، پیس اینڈ سکیورٹی حکومتوں، دفاعی ٹیکنالوجی کمپنیوں، ماہرین اور دیگر فریقوں کو ایک فورم پر لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پروگرام کی توجہ اس سوال پر ہوگی کہ ابتدائی وارننگ، نگرانی، انٹیلی جنس، ہدف بندی اور حساس دفاعی فیصلہ سازی میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے دوران مؤثر انسانی کنٹرول کیسے برقرار رکھا جائے۔ یو این آئی ڈی آئی آر کے سربراہ رابن گائس نے خبردار کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کی رفتار کے باعث انسانی فیصلے کے لیے دستیاب وقت اور گنجائش کم ہو سکتی ہے، خصوصاً ایسے نظاموں میں جہاں غلطی کے نتائج انتہائی سنگین ہوں۔
مرکز کا مقصد کسی ایک ملک یا کمپنی کے نظام پر پابندی لگانا نہیں بلکہ ایسے بین الاقوامی اصول، مکالمے اور ذمہ دارانہ طرز عمل کے فریم ورک تیار کرنا ہے جو موجودہ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔ پروگرام دفاعی ٹیکنالوجی بنانے والی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں سے بھی مشاورت کرے گا تاکہ صنعت کے لیے ذمہ دارانہ رویے کے قابل عمل اصول وضع کیے جا سکیں۔
فوجی مصنوعی ذہانت کا استعمال صرف بڑی ریاستوں تک محدود نہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کو یہ خدشہ بھی ہے کہ مسلح غیر ریاستی گروہ تجارتی ڈرونز، خودکار نظام، نگرانی کے آلات یا آسانی سے دستیاب اے آئی ماڈلز کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس لیے نئے فورم میں ریاستی ہتھیاروں کے ساتھ دوہری استعمال کی ٹیکنالوجی اور غیر ریاستی خطرات بھی زیر بحث آئیں گے۔
جوہری ہتھیار رکھنے والی طاقتوں کے لیے اے آئی سے متعلق ایک خاص تشویش یہ ہے کہ خودکار تجزیہ یا وارننگ نظام بحران کے دوران فیصلے کی رفتار بڑھا سکتے ہیں اور غلط یا نامکمل ڈیٹا کی صورت میں کشیدگی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین انسانی نگرانی، قابل وضاحت نظام اور غلطی کی صورت میں محفوظ طریقۂ کار کو اہم قرار دیتے ہیں۔
یہ اقدام ابھی عالمی معاہدہ یا پابند ضابطہ نہیں بلکہ بین الاقوامی تعاون کا نیا پلیٹ فارم ہے۔ اس کی عملی اہمیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ بڑی فوجی طاقتیں، ٹیکنالوجی کمپنیاں اور دیگر ممالک کس حد تک معلومات، اصول اور حفاظتی اقدامات پر اتفاق کرتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے دفاعی استعمال میں تیزی کے باعث اقوام متحدہ اسے فوری پالیسی توجہ کا موضوع قرار دے رہا ہے۔
