وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کے قومی سیمی کنڈکٹر اقدام INSPIRE کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد ملک میں چپ ڈیزائن، تحقیق اور سیمی کنڈکٹر سے متعلق افرادی قوت کی صلاحیت بڑھانا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق پروگرام کے تحت 7,200 پیشہ ور افراد کو تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور حکومت اسے علم پر مبنی ڈیجیٹل معیشت کی طرف منتقلی کا ایک اہم قدم قرار دے رہی ہے۔
سیمی کنڈکٹر جدید کمپیوٹر، موبائل فون، گاڑیوں، ٹیلی کمیونیکیشن آلات، مصنوعی ذہانت کے نظام، طبی آلات اور صنعتی مشینری سمیت تقریباً تمام جدید الیکٹرانکس کی بنیادی ٹیکنالوجی ہے۔ پاکستان میں اس شعبے کی سرگرمیاں ابھی محدود ہیں، اس لیے ابتدائی توجہ مکمل چپ فیکٹری قائم کرنے کے بجائے ڈیزائن، انجینئرنگ، تحقیق، تربیت اور عالمی کمپنیوں کے لیے مہارت پر مبنی خدمات پیدا کرنے پر مرکوز رہنے کی توقع ہے۔
INSPIRE کے تربیتی ہدف کی کامیابی کے لیے جامعات، انجینئرنگ اداروں اور صنعت کے درمیان قریبی تعاون ضروری ہوگا۔ چپ ڈیزائن میں الیکٹرانکس، کمپیوٹر انجینئرنگ، مخصوص ڈیزائن سافٹ ویئر، ویری فکیشن اور پیچیدہ بین الاقوامی معیارات کی مہارت درکار ہوتی ہے۔ اگر تربیت عالمی صنعت کی ضرورت سے ہم آہنگ ہو تو پاکستانی انجینئرز کے لیے ریموٹ ڈیزائن، تحقیق اور برآمدی خدمات کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
پروگرام کا اعلان پاکستان کی وسیع ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی پالیسی کے تناظر میں کیا گیا ہے، جس میں آئی ٹی برآمدات، مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ انفراسٹرکچر اور اعلیٰ تکنیکی مہارتوں کو بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ سیمی کنڈکٹر شعبے میں داخلہ تاہم طویل مدتی عمل ہے، کیونکہ عالمی سپلائی چین انتہائی تخصص یافتہ ہے اور جدید مینوفیکچرنگ پلانٹس کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔
سرکاری اعلان میں 7,200 افراد کی تربیت واضح ہدف کے طور پر سامنے آئی ہے، مگر اس سے خودکار طور پر مقامی چپ مینوفیکچرنگ یا بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضمانت نہیں ملتی۔ پروگرام کی حقیقی کامیابی کا اندازہ تربیت مکمل کرنے والوں کی ملازمت، بین الاقوامی منصوبوں، مقامی ڈیزائن کمپنیوں، تحقیق کے معیار اور نجی سرمایہ کاری کے نتائج سے ہوگا۔
