اقوام متحدہ: پاکستان نے اقوام متحدہ کے ایک فورم پر مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ٹیکنالوجیز کے جنگی استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہلک طاقت کے استعمال سے متعلق حتمی فیصلہ انسانی کنٹرول میں رہنا چاہیے۔ پاکستانی نمائندوں نے خودکار نظاموں، AI، حیاتیاتی اور کیمیائی علوم اور دیگر تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجیز کے سکیورٹی اثرات کے لیے مؤثر بین الاقوامی ضابطہ کاری پر زور دیا۔
بحث کے دوران اس خدشے کو نمایاں کیا گیا کہ مصنوعی ذہانت ہتھیاروں کے نظام، نگرانی، ہدف کے انتخاب، سائبر کارروائیوں اور فیصلہ سازی کی رفتار کو تبدیل کر سکتی ہے۔ ایسے نظام اگر مناسب انسانی نگرانی کے بغیر استعمال ہوں تو غلط شناخت، غیر متوقع رویے، ذمہ داری کے تعین اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی سے متعلق پیچیدہ سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے تخفیف اسلحہ تحقیقاتی ادارے سے وابستہ ماہرین نے بھی اس بات پر زور دیا کہ مشینوں کو انسانوں کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال کا مکمل خودمختار اختیار دینے سے اخلاقی اور قانونی خطرات پیدا ہوتے ہیں۔ بحث میں یہ نکتہ سامنے آیا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی ضابطہ سازی سے زیادہ تیز ہو سکتی ہے، اس لیے ریاستوں کو ایسے اصول وضع کرنے کی ضرورت ہے جو جدت کو روکے بغیر انسانی تحفظ اور جوابدہی یقینی بنائیں۔
پاکستانی مؤقف میں AI کے ساتھ حیاتیاتی اور کیمیائی علوم کی تیز رفتار پیش رفت کا بھی ذکر کیا گیا۔ ان شعبوں میں مثبت طبی، صنعتی اور سائنسی استعمال کے ساتھ دوہرے استعمال کا خطرہ موجود ہے، یعنی ایسی ٹیکنالوجی جو پرامن مقصد کے لیے تیار ہو لیکن اسے نقصان دہ مقاصد میں بھی بدلا جا سکے۔
پاکستان نے اس مسئلے کو بڑی طاقتوں تک محدود رکھنے کے بجائے عالمی سلامتی کا سوال قرار دیا۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے ٹیکنالوجی تک منصفانہ رسائی، صلاحیت سازی اور عالمی قواعد کی تشکیل میں مساوی شرکت بھی اہم ہے، کیونکہ نئے ضابطوں کے اثرات تمام ریاستوں پر پڑ سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ میں AI اور خودکار ہتھیاروں کے بارے میں گفتگو ابھی عالمی معاہدے کی حتمی شکل تک نہیں پہنچی۔ مختلف ریاستوں کے درمیان پابندی، ضابطہ کاری اور انسانی کنٹرول کی تعریف پر اختلافات موجود ہیں۔ پاکستان کی تازہ مداخلت اس جاری سفارتی بحث کا حصہ ہے جس میں بنیادی سوال یہ ہے کہ جنگ میں تیزی سے خودکار ہوتی ٹیکنالوجی کے استعمال پر قابل عمل اور قابل نفاذ بین الاقوامی حدود کیسے قائم کی جائیں۔
