لاہور: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے سری لنکا کے خلاف سہ فریقی ون ڈے سیریز کے فائنل میں سلو اوور ریٹ پر پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں پر میچ فیس کا پانچ فیصد جرمانہ عائد کیا ہے۔ پاکستان نے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا فائنل تین وکٹوں سے جیت کر ٹائٹل اپنے نام کیا تھا، تاہم میچ کے بعد اوور ریٹ کی جانچ میں میزبان ٹیم مقررہ رفتار سے ایک اوور پیچھے پائی گئی۔

آئی سی سی کے مطابق میچ ریفری جیف کرو نے مقررہ وقت اور قابل اطلاق ٹائم الاؤنسز کو مدنظر رکھنے کے بعد پاکستان کو ایک اوور کم قرار دیا۔ ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.22 کے تحت ہر ایسے اوور کے لیے، جو ٹیم مقررہ وقت میں مکمل نہ کر سکے، کھلاڑیوں کی میچ فیس کا پانچ فیصد جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ اسی اصول کے تحت پاکستانی کھلاڑیوں پر پانچ فیصد کٹوتی کی گئی۔

پاکستانی کپتان شاہین شاہ آفریدی نے خلاف ورزی تسلیم کرتے ہوئے مجوزہ سزا قبول کرلی، اس لیے باضابطہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ الزام آن فیلڈ امپائرز احسن رضا اور وین نائٹس، تھرڈ امپائر شرف الدولہ ابن شاہد اور فورتھ امپائر راشد ریاض نے عائد کیا تھا۔ یہ سزا میچ کے نتیجے کو تبدیل نہیں کرتی اور پاکستان کی فائنل میں فتح برقرار ہے۔

فائنل میں سری لنکا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آٹھ وکٹوں پر 325 رنز بنائے تھے۔ جواب میں پاکستان نے 326 رنز کا ہدف تین وکٹیں باقی رہتے اور نو گیندیں قبل حاصل کر لیا۔ فخر زمان نے 99 گیندوں پر 127 رنز کی فیصلہ کن اننگز کھیلی جس میں 11 چوکے اور چھ چھکے شامل تھے۔ یہ ان کے ون ڈے کیریئر کی بارہویں سنچری تھی۔

پاکستان کا ہدف حاصل کرنا ون ڈے فائنلز میں کامیاب تعاقب کے نمایاں ریکارڈز میں شامل ہوا، جبکہ ابتدائی مشکلات کے بعد فخر زمان کی اننگز نے ٹیم کو واپس مقابلے میں لانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ تاہم آئی سی سی کا اوور ریٹ ضابطہ میچ کے نتیجے سے الگ انتظامی اور تادیبی معاملہ ہے، اس لیے فتح کے باوجود جرمانہ نافذ کیا گیا۔

سلو اوور ریٹ کے قوانین کا مقصد محدود اوورز کی کرکٹ میں کھیل کی رفتار برقرار رکھنا اور غیر ضروری تاخیر کو روکنا ہے۔ کپتان اور کھلاڑیوں کو فیلڈ سیٹنگ، بولنگ تبدیلیوں اور دیگر حکمت عملیوں کے دوران مقررہ وقت کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ قابل قبول وجوہات کے لیے ٹائم الاؤنسز دیے جاتے ہیں، مگر ان کے بعد بھی کمی باقی رہے تو جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے اس کارروائی کا فوری اثر کھلاڑیوں کی میچ فیس تک محدود ہے۔ آئی سی سی کے جاری بیان میں کسی اضافی پوائنٹس کٹوتی یا کپتان پر الگ معطلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ٹیم سہ فریقی سیریز کی فاتح برقرار ہے، جبکہ جرمانہ فائنل میں اوور ریٹ کی الگ خلاف ورزی کے طور پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔