اسلام آباد: پاکستان نے یکم نومبر 2026 کو بین الحکومتی گروپ آف ٹوئنٹی فور (جی 24) کی صدارت سنبھال لی ہے اور وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی مدت کے دوران ترقی پذیر معیشتوں کی اجتماعی آواز مضبوط بنانے اور عالمی مالیاتی نظام کو زیادہ منصفانہ، جواب دہ اور ترقی دوست بنانے کے لیے کام کرے گا۔ وزارتِ اطلاعات کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق وزیر خزانہ نے اس ذمہ داری کو اہم قرار دیتے ہوئے عالمی تعاون، کثیرالجہتی اداروں کی مضبوطی اور موسمیاتی جھٹکوں، ترقیاتی مالی وسائل کی کمی اور عالمی اقتصادی تقسیم جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر زور دیا۔
محمد اورنگزیب نے پاکستان کی صدارت کے لیے تین بنیادی ترجیحات بیان کیں۔ پہلی ترجیح یہ ہے کہ عالمی اقتصادی پالیسی سازی میں ترقی کو مرکزی حیثیت دی جائے تاکہ معاشی استحکام صرف بحران پر قابو پانے تک محدود نہ رہے بلکہ سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت، روزگار اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد بنے۔ دوسری ترجیح ترقی پذیر ممالک کی بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں زیادہ مؤثر اور منصفانہ نمائندگی ہے، جس میں فیصلہ سازی میں بامعنی شرکت اور بریٹن ووڈز اداروں کو رکن ممالک کی بدلتی ضروریات کے مطابق زیادہ جواب دہ بنانے پر توجہ دی جائے گی۔ تیسری ترجیح عالمی مالیاتی ڈھانچے میں ایسی اصلاحات کی حمایت ہے جن سے ترقیاتی فنانسنگ بروقت اور قابل برداشت ہو، قرضوں کے پائیدار حل سامنے آئیں، عالمی مالیاتی حفاظتی انتظامات مضبوط ہوں اور موسمیاتی لچک کے لیے سرکاری و نجی سرمایہ زیادہ متحرک کیا جا سکے۔
جی 24 ترقی پذیر ممالک کا ایک بین الحکومتی فورم ہے جو بین الاقوامی مالیاتی اور مالی امور پر مشترکہ مؤقف تشکیل دینے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ پاکستان کی نئی ذمہ داری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب متعدد ترقی پذیر معیشتیں قرضوں کے دباؤ، موسمیاتی خطرات، محدود مالی گنجائش اور عالمی سرمایہ کاری میں غیر یقینی صورت حال کا سامنا کر رہی ہیں۔ وزیر خزانہ کے مطابق ابھرتی اور ترقی پذیر معیشتوں کی صلاحیت عالمی نمو، سرمایہ کاری، اختراع اور کاروباری سرگرمی کے لیے مرکزی اہمیت رکھتی ہے، اس لیے بین الاقوامی مالیاتی ڈھانچے کو ان ممالک کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔
سرکاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان مشاورت، اتفاق رائے اور اجتماعی وکالت کے جی 24 کے دیرینہ اصولوں کے مطابق افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکا اور کیریبین کے رکن ممالک کے ساتھ کام کرے گا۔ اس تعاون میں عالمی مالیاتی فنڈ، عالمی بینک اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں سے رابطہ بھی شامل ہوگا تاکہ مشترکہ ترجیحات کو عملی نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔ محمد اورنگزیب نے سبکدوش ہونے والے چیئرمین نائجیریا کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اجتماعی قیادت کی کامیابی کا اصل معیار محض مضبوط آواز نہیں بلکہ ترقی کے میدان میں اس آواز سے پیدا ہونے والے عملی نتائج ہوں گے۔
