اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے نومبر 2026 کے لیے مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی صارف قیمت میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں گھریلو سلنڈر کی سرکاری قیمت بھی بڑھ گئی ہے۔ نئی قیمت کا اطلاق ماہ کے آغاز سے کیا گیا ہے۔ ایل پی جی ایسے علاقوں اور گھرانوں کے لیے اہم ایندھن ہے جہاں پائپ لائن گیس دستیاب نہیں یا سردیوں میں اس کی فراہمی محدود ہو جاتی ہے، اس لیے ماہانہ نرخ میں تبدیلی براہ راست گھریلو اخراجات کو متاثر کرتی ہے۔

اوگرا ہر ماہ ایل پی جی کی قیمت کا تعین مقررہ فارمولے کے تحت کرتی ہے جس میں سعودی آرامکو کنٹریکٹ پرائس، شرح مبادلہ، مقامی پیداوار اور دیگر منظور شدہ لاگت عناصر شامل ہوتے ہیں۔ نومبر کے نوٹیفکیشن میں فی کلو صارف قیمت اور 11.8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی قیمت نئے حساب کے مطابق مقرر کی گئی ہے۔ ریگولیٹر کی جاری کردہ قیمت قانونی طور پر مجاز حد کی نمائندگی کرتی ہے، تاہم ماضی میں مختلف شہروں اور دور دراز علاقوں میں عملی مارکیٹ نرخ اس سے زیادہ رہنے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔

ایل پی جی صنعت سے وابستہ نمائندوں نے سردیوں کے آغاز سے قبل رسد کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق موسم سرد ہونے کے ساتھ گھریلو اور تجارتی طلب میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ مقامی پیداوار طلب پوری کرنے کے لیے کافی نہ ہو تو درآمدات پر انحصار بڑھ جاتا ہے۔ بندرگاہی، درآمدی یا زرمبادلہ سے متعلق رکاوٹیں سپلائی چین پر دباؤ ڈال سکتی ہیں۔ یہ خدشات صنعت کے بیانات ہیں؛ کسی مخصوص ملک گیر قلت کا حتمی نتیجہ رسد، درآمدات اور مارکیٹ دستیابی کے آئندہ اعداد و شمار سے واضح ہوگا۔

قیمت میں اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب توانائی کے مختلف ذرائع کی لاگت پہلے ہی گھرانوں کے بجٹ پر اثر ڈال رہی ہے۔ ایل پی جی خاص طور پر پہاڑی، دیہی اور شہری مضافاتی علاقوں میں کھانا پکانے اور بعض جگہ حرارت کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ سرکاری نرخ میں معمولی تبدیلی بھی پورے ماہ کے استعمال پر قابل ذکر اضافی خرچ بن سکتی ہے، جبکہ غیر رسمی یا زائد قیمت وصول کیے جانے کی صورت میں صارف کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔

ریگولیٹری نگرانی کا اگلا اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ نومبر کے مقررہ نرخ پر مارکیٹ میں ایل پی جی دستیاب رہتی ہے یا نہیں۔ صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کے لیے قیمت کی نگرانی، ذخیرہ اندوزی کی شکایات اور غیر قانونی منافع خوری کے خلاف کارروائی اہم ہوگی۔ اسی طرح سردیوں میں رسد برقرار رکھنے کے لیے درآمدی کارگو اور مقامی پیداوار کا تسلسل صارف قیمتوں کے استحکام میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔