اسلام آباد: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے مسلسل چار سال تک سالانہ گوشوارے اور/یا مطلوبہ مالیاتی بیانات جمع نہ کرانے والی 39,704 کمپنیوں کو ’Inactive by Registrar‘ یعنی رجسٹرار کی جانب سے غیر فعال قرار دے دیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کی یکم نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد کارپوریٹ رجسٹر کو زیادہ قابل اعتماد بنانا اور ایسی غیر فعال کمپنیوں کے ممکنہ غلط استعمال کے خطرے کو کم کرنا ہے۔

غیر فعال حیثیت ایس ای سی پی کے نظام میں ظاہر ہوگی اور بینکوں سمیت متعلقہ اداروں کو نظر آئے گی۔ اس درجہ بندی کے بعد متاثرہ کمپنیاں نئے بینک اکاؤنٹس نہیں کھول سکیں گی، جبکہ ان کے موجودہ اکاؤنٹس اس وقت تک منجمد رہیں گے جب تک وہ واجب الادا دستاویزات ایس ای سی پی میں جمع کرا کے دوبارہ فعال حیثیت حاصل نہیں کر لیتیں۔ اسی دوران ان کمپنیوں کے لیے بعض مالیاتی خدمات تک رسائی اور ڈائریکٹرز میں تبدیلیوں کی رجسٹریشن بھی ممکن نہیں ہوگی۔

اعدادوشمار کے مطابق غیر فعال قرار دی گئی کمپنیوں میں لاہور سے 13,927، اسلام آباد سے 13,859، کراچی سے 4,868، پشاور سے 2,031، ملتان سے 1,861، فیصل آباد سے 1,384، گلگت سے 1,102، کوئٹہ سے 436 اور سکھر سے 236 کمپنیاں شامل ہیں۔ کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت سالانہ گوشواروں اور جہاں لازم ہو مالیاتی بیانات کی فائلنگ قانونی ذمہ داری ہے۔ ان دستاویزات کے ذریعے کمپنی کی ملکیت، انتظامیہ اور دیگر عوامی کارپوریٹ معلومات تازہ رکھی جاتی ہیں۔

ایس ای سی پی کے مطابق طویل عرصے تک دستاویزات جمع نہ کرانا کارپوریٹ رجسٹر کی صحت اور شفافیت کو متاثر کرتا ہے اور منی لانڈرنگ و دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ کمیشن کا مؤقف ہے کہ غیر فعال درجہ بندی سے ایک طرف مالیاتی نظام کی سالمیت کے تحفظ میں مدد ملے گی اور دوسری طرف متعلقہ کمپنیوں کے لیے تعمیل مکمل کرکے فعال حیثیت بحال کرنے کا واضح راستہ موجود رہے گا۔

پاکستان کا کارپوریٹ رجسٹر مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ستمبر 2026 کے اختتام تک ملک میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 317,002 تھی، جبکہ گزشتہ مالی سال میں 43,559 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ تھیں۔ ایس ای سی پی کے مطابق کمپنی کے نام کی ریزرویشن اور انکارپوریشن کا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو چکا ہے اور نئی کمپنیوں کی 99.9 فیصد رجسٹریشن آن لائن ہوتی ہے۔ چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے صاف اور قابل اعتبار رجسٹری کو کارپوریٹ شعبے میں اعتماد کی بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن مالیاتی نظام کی سالمیت کے تحفظ کے ساتھ کمپنیوں کو تعمیل کی طرف واپس آنے کا موقع دے رہا ہے۔