لندن: اوپیک پلس کے سات اہم رکن ممالک نے آن لائن اجلاس میں دسمبر 2026 کے لیے خام تیل کی پیداوار کے اہداف برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق سعودی عرب، روس، عراق، کویت، الجزائر، قازقستان اور عمان نے موجودہ ہدف میں فوری تبدیلی نہیں کی، جبکہ 2027 کے لیے وسیع تر پیداواری پالیسی اور کوٹوں کا فیصلہ بعد کے اجلاس تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔ اوپیک پلس کے تمام 21 ممالک کا اجلاس 29 نومبر کو ہونا ہے۔

ساتوں ممالک 2026 کے دوران اپنے پیداواری اہداف بتدریج بڑھاتے رہے ہیں، لیکن خطے میں جنگ اور برآمدی رکاوٹوں کے باعث کئی ممالک عملی طور پر مقررہ ہدف سے کم تیل پیدا یا برآمد کر رہے ہیں۔ اس صورت حال نے رسمی پیداواری کوٹوں اور عالمی منڈی میں حقیقی دستیاب سپلائی کے درمیان فرق پیدا کیا ہے۔ اسی لیے دسمبر کا ہدف برقرار رکھنے کا فیصلہ فوری طور پر اضافی بیرل مارکیٹ میں آنے کی ضمانت نہیں دیتا۔

اوپیک پلس نے ستمبر میں 16 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ کی ایک سابقہ رضاکارانہ کٹوتی واپس لینے کا عمل مکمل کیا تھا، جبکہ تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ کی ایک الگ کٹوتی 2026 کے اختتام تک برقرار ہے۔ اب گروپ کے سامنے اہم سوال یہ ہے کہ 2027 میں پیداواری بنیادیں اور کوٹے کس سطح پر مقرر کیے جائیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران جنگ، آبنائے ہرمز سے شپنگ اور خلیجی برآمدات کی بحالی کے وقت کے بارے میں غیر یقینی برقرار ہے۔

رائٹرز کے مطابق تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر خلیجی ممالک کی برآمدات معمول پر آتی ہیں تو عالمی منڈی میں اضافی رسد کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ موجودہ رکاوٹیں جاری رہنے کی صورت میں سپلائی محدود رہ سکتی ہے۔ جمعہ کو عالمی تیل قیمتوں میں دو فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور برینٹ خام تیل تقریباً 118 ڈالر فی بیرل کے قریب رہا۔ یہ قیمتیں توانائی کی منڈی میں جاری جغرافیائی سیاسی خطرات کی عکاسی کرتی ہیں۔

2027 کے حتمی فیصلے سے پہلے اوپیک پلس کو رکن ممالک کی پیداواری صلاحیت کا جائزہ بھی مکمل کرنا ہے، جس کی تکمیل نومبر کے وسط تک متوقع ہے۔ جنگ سے متعلق رکاوٹوں نے بعض علاقائی توسیعی منصوبوں اور مستقبل کی پیداواری صلاحیت کے اندازوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس لیے 29 نومبر کا اجلاس نہ صرف اگلے سال کے کوٹوں بلکہ عالمی تیل کی رسد، قیمتوں اور رکن ممالک کے درمیان پیداواری حصص کے لیے بھی اہم ہوگا۔