اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان براہ راست پروازوں کا سلسلہ بحال کر دیا ہے۔ قومی ایئرلائن کے مطابق دونوں دارالحکومتوں کے درمیان ہفتہ وار پرواز ہر جمعہ کو چلائی جائے گی۔ اس روٹ کی بحالی سے پاکستان اور چین کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں، کاروباری افراد، طلبہ اور سرکاری و تجارتی وفود کو براہ راست فضائی رابطے کا ایک اضافی ذریعہ میسر آئے گا۔

دستیاب معلومات کے مطابق پی آئی اے نے چین کے لیے براہ راست آپریشن دوبارہ شروع کرتے ہوئے اسلام آباد کو بیجنگ سے منسلک کیا ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان وسیع اقتصادی، تعلیمی اور سرکاری روابط کی وجہ سے اس روٹ کی اہمیت محض سیاحتی سفر تک محدود نہیں۔ چین میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ، کاروباری برادری اور دونوں ممالک کے درمیان منصوبوں پر کام کرنے والے افراد بھی اس فضائی رابطے کے ممکنہ صارفین میں شامل ہیں۔

ہفتے میں ایک پرواز سے آغاز کا مطلب یہ ہے کہ فی الحال روٹ محدود فریکوئنسی کے ساتھ چلایا جا رہا ہے۔ مستقبل میں پروازوں کی تعداد میں کسی اضافے کا انحصار مسافروں کی طلب، آپریشنل ضروریات اور ایئرلائن کے تجارتی فیصلوں پر ہوگا۔ موجودہ اعلان میں بنیادی طور پر اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان ہر جمعہ کو براہ راست سروس کی بحالی کی تصدیق کی گئی ہے۔

قومی ایئرلائن کے لیے بین الاقوامی روٹس کی بحالی اور توسیع اس کی آپریشنل حکمت عملی کا اہم حصہ ہے، کیونکہ طویل فاصلے اور علاقائی بین الاقوامی پروازیں مسافروں کے لیے رابطے کے ساتھ ایئرلائن کی آمدن اور نیٹ ورک کے استعمال پر بھی اثر ڈالتی ہیں۔ چین پاکستان کا ایک بڑا تجارتی اور ترقیاتی شراکت دار ہے، اس لیے دارالحکومتوں کے درمیان براہ راست فضائی سروس کاروباری اور سرکاری آمدورفت کے نقطۂ نظر سے بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔

براہ راست پرواز کا ایک عملی فائدہ یہ ہے کہ مسافروں کو تیسرے ملک یا کسی دوسرے بین الاقوامی مرکز کے ذریعے کنیکٹنگ فلائٹ لینے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ تاہم ٹکٹوں کی دستیابی، کرایوں، سفر کے دورانیے اور آئندہ شیڈول میں تبدیلیوں کا تعین پی آئی اے کے جاری کردہ آپریشنل شیڈول کے مطابق ہوگا۔ مسافروں کے لیے ضروری ہوگا کہ سفر سے پہلے تازہ شیڈول اور متعلقہ سفری شرائط کی تصدیق کریں۔

اس بحالی کے بعد اسلام آباد-بیجنگ روٹ پاکستان اور چین کے درمیان براہ راست فضائی رابطوں میں ایک اور فعال راستہ بن گیا ہے۔ اس کے عملی اثرات کا اندازہ آنے والے مہینوں میں مسافروں کی تعداد، روٹ کی مستقل مزاجی اور ممکنہ فریکوئنسی میں اضافے سے زیادہ واضح ہوگا۔