اسلام آباد: پاکستان کے گیس شعبے میں گردشی قرضے کا حجم تقریباً 4 کھرب روپے تک پہنچنے کی اطلاع ہے، جس نے توانائی شعبے کی مالی پائیداری اور سرکاری گیس کمپنیوں کی ادائیگی صلاحیت پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق واجبات کا بڑا حصہ گیس کی خریداری، صارفین سے وصولیوں، حکومتی سبسڈی اور قیمتوں کے درمیان فرق سے جڑا ہوا ہے۔
گیس شعبے کا گردشی قرضہ بنیادی طور پر اس وقت بڑھتا ہے جب گیس تقسیم کار کمپنیاں اپنی خریدی گئی گیس کی مکمل لاگت صارفین یا حکومت سے بروقت وصول نہیں کر پاتیں۔ اس کے نتیجے میں پیداواری کمپنیوں، درآمدی ایل این جی سپلائرز اور دیگر اداروں کو ادائیگیاں مؤخر ہوتی ہیں اور واجبات ایک ادارے سے دوسرے ادارے تک منتقل ہوتے رہتے ہیں۔
پاکستان میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز اور سوئی سدرن گیس کمپنی بڑے تقسیم کار ادارے ہیں۔ ان کمپنیوں کے مالی نتائج پر غیر وصول شدہ بل، لائن لاسز، قیمتوں کے فیصلے اور سبسڈی کے انتظامات براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔ حکومت نے گزشتہ برسوں میں گیس ٹیرف میں متعدد بار تبدیلیاں کی ہیں تاکہ لاگت اور آمدن کے فرق کو کم کیا جا سکے، لیکن مجموعی واجبات اب بھی بلند سطح پر ہیں۔
گردشی قرضے میں اضافہ صرف کمپنیوں کے بیلنس شیٹ کا مسئلہ نہیں رہتا۔ اگر پیداواری اداروں کو بروقت ادائیگی نہ ہو تو نئی تلاش و پیداوار میں سرمایہ کاری، موجودہ فیلڈز کی دیکھ بھال اور درآمدی توانائی کی فنانسنگ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کا بالواسطہ اثر صنعتی صارفین، بجلی گھروں اور گھریلو گیس فراہمی پر پڑنے کا خطرہ رہتا ہے۔
حکومت کے لیے اہم چیلنج یہ ہے کہ صارفین پر اچانک بھاری بوجھ ڈالے بغیر گیس کی قیمت کو حقیقی لاگت کے قریب لایا جائے، نقصانات اور چوری کم کی جائے اور سبسڈی کو زیادہ ہدفی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ سرکاری اداروں کے درمیان پرانے واجبات کی تصفیہ کاری کے لیے بھی قابل عمل مالی طریقہ درکار ہے۔
تقریباً 4 کھرب روپے کا عدد مجموعی واجبات کی موجودہ رپورٹ شدہ سطح کی نمائندگی کرتا ہے؛ مختلف اداروں کے حسابات، سود یا لیٹ پیمنٹ سرچارجز اور باہمی دعوؤں کی تصدیق کے بعد حتمی قابل ادائیگی رقم میں فرق ہو سکتا ہے۔ اس لیے اسے مکمل آڈٹ شدہ حتمی واجب الادا رقم کے بجائے شعبے کے مالی دباؤ کے پیمانے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
