اسلام آباد: خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) اور پنجاب حکومت کے اعلیٰ سطح اجلاس میں کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے رجسٹریشن، لائسنسنگ اور قواعد پر عمل درآمد کے طریقہ کار کو آسان بنانے اور وفاقی و صوبائی اصلاحات میں ہم آہنگی بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب اور وفاقی سطح کے متعلقہ حکام و ایس آئی ایف سی وفد نے شرکت کی۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے 26 اکتوبر کے سرکاری اعلامیے کے مطابق گفتگو کا مرکز ملک میں کاروبار شروع کرنے اور چلانے کے لیے درکار مختلف انتظامی مراحل کو زیادہ مؤثر، شفاف اور سرمایہ کار دوست بنانا تھا۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ مختلف صوبوں اور خطوں میں ریگولیٹری طریقہ کار کے فرق کو کم کرنے سے کاروباری اداروں کے لیے تعمیل کی لاگت اور پیچیدگی کم کی جا سکتی ہے۔

اجلاس میں پنجاب کے آسان کاروبار اصلاحاتی فریم ورک کو بھی زیر بحث لایا گیا اور صوبائی سطح پر اختیار کیے گئے بہتر طریقوں کو دوسرے علاقوں کے ساتھ شیئر کرنے کی ضرورت اجاگر کی گئی۔ سرکاری بیان کے مطابق مقصد یہ ہے کہ کاروباری رجسٹریشن، لائسنس اور کمپلائنس کے مراحل میں غیر ضروری تکرار اور انتظامی رکاوٹیں کم ہوں اور سرمایہ کاری کے لیے نسبتاً یکساں سہولت کاری کا نظام تشکیل پائے۔

اجلاس کے بعد پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب، وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار اور ایس آئی ایف سی کے سیکریٹری نے پریس کانفرنس میں ادارہ جاتی رابطے اور ہدفی ریگولیٹری اصلاحات کی اہمیت بیان کی۔ حکومت کے مطابق پالیسی اعلانات کو عملی سہولت میں بدلنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مستقل رابطہ ضروری ہے۔

یہ پیش رفت بنیادی طور پر اصلاحاتی سمت اور ادارہ جاتی تعاون سے متعلق ہے۔ سرکاری اعلامیے میں کسی ایک نئے قانون، ٹیکس رعایت یا فوری سرمایہ کاری پیکیج کے نفاذ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے اجلاس کو کاروباری قواعد میں ہم آہنگی اور انتظامی عمل سادہ بنانے کے لیے پالیسی رابطے کی پیش رفت سمجھا جانا چاہیے، جبکہ مخصوص تبدیلیاں متعلقہ قواعد، نوٹیفکیشن اور ادارہ جاتی فیصلوں کے بعد ہی نافذ ہوں گی۔

ایس آئی ایف سی نے کہا ہے کہ متعلقہ وفاقی اور صوبائی فریقوں کے ساتھ ریگولیٹری اصلاحات پر کام جاری رکھا جائے گا۔ ان اقدامات کی عملی کامیابی کا اندازہ اس بات سے ہوگا کہ کاروباری اداروں کو رجسٹریشن اور اجازت ناموں میں کتنا وقت اور لاگت بچتی ہے اور مختلف سرکاری اداروں کے تقاضوں میں کتنی حقیقی ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔