اسلام آباد: ریاستی ملکیتی اداروں سے متعلق کابینہ کمیٹی (CCoSOEs) نے 26 اکتوبر کے اجلاس میں پاکستان اسٹیٹ آئل کے بورڈ آف مینجمنٹ کے لیے دو آزاد ارکان کی نامزدگی اور اسٹریٹجک ڈیجیٹل والٹ کمپنی کے بورڈ میں چار آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری کی منظوری دے دی۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کی۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سرکاری اعلامیے کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن کی سمری پر پی ایس او بورڈ کے لیے ایک خاتون آزاد ڈائریکٹر اور ایک مزید آزاد رکن کی نامزدگی منظور کی گئی۔ یہ اقدام سابقہ بورڈ کی قانونی مدت مکمل ہونے کے بعد بورڈ کی ازسرنو تشکیل کے عمل کا حصہ ہے۔

کمیٹی نے وزارت تجارت کی جانب سے پاکستان فارما ایکسپورٹ پروموشن کونسل کو کمپنیز ایکٹ 2017 کی دفعہ 42 کے تحت ٹریڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے انتظامی کنٹرول میں کمپنی کی شکل دینے کی تجویز بھی دیکھی۔ تاہم اس تجویز کو فوری منظوری نہیں دی گئی اور وزارت کو متعلقہ فریقوں سے مزید مشاورت کے بعد معاملہ دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔

فنانس ڈویژن کی سمری پر کمیٹی نے اسٹریٹجک ڈیجیٹل والٹ کمپنی کے بورڈ کے لیے چار آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری منظور کی۔ سرکاری بیان کے مطابق یہ کمپنی پاکستان کے خودمختار ورچوئل اثاثوں کے انتظام، تحفظ اور نگرانی کے لیے قائم کی گئی ہے۔ بورڈ تقرریوں کی منظوری ادارے کے انتظامی ڈھانچے کو فعال بنانے کی جانب ایک قدم ہے، تاہم اس سے کسی مخصوص ورچوئل اثاثہ پالیسی یا سرمایہ کاری فیصلے کی خودکار منظوری اخذ نہیں کی جا سکتی۔

کمیٹی نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کی سمری پر کلین انوائرمنٹ فنڈ کمپنی کو فعال کرنے کے لیے دو عہدہ جاتی اور تین آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری بھی منظور کی۔ کمپنی کا مقصد ماحولیاتی تحفظ، بحالی اور بہتری کے منصوبوں کے لیے وسائل کے حصول اور استعمال میں سہولت فراہم کرنا ہے۔

یہ فیصلے ریاستی اداروں کی گورننس، بورڈ کی تشکیل اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں سے متعلق ہیں۔ عملی نتائج کا انحصار متعلقہ تقرریوں کی تکمیل، اداروں کے قواعد، مالی وسائل اور بعد کے انتظامی فیصلوں پر ہوگا۔ کابینہ کمیٹی کے اعلامیے نے منظور شدہ اور مؤخر شدہ تجاویز میں واضح فرق رکھا ہے، اس لیے فارما ایکسپورٹ کونسل کی کمپنی تشکیل کو ابھی حتمی منظوری نہیں سمجھا جا سکتا۔