اسلام آباد میں وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت قومی پرائیویٹ ایکویٹی فریم ورک کی تیاری کے لیے قائم کمیٹی کے تیسرے اجلاس میں ریگولیٹری اصلاحات، ٹیکس پالیسی، ملکی ادارہ جاتی سرمایہ اور قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں کی پائپ لائن پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ حکومت کا مقصد ایسا فریم ورک تیار کرنا ہے جو ملکی بچت کو طویل مدتی رسک کیپیٹل میں منتقل کرنے اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھانے میں مدد دے سکے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق اجلاس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے حالیہ ریگولیٹری اقدامات سے آگاہ کیا، جن میں بینکوں کے لیے کسی ایک پرائیویٹ ایکویٹی فنڈ میں قابل اجازت سرمایہ کاری کی حد 10 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کرنا شامل ہے۔ یہ تبدیلی سرمایہ کاری کی گنجائش بڑھاتی ہے، تاہم کسی بینک کی حقیقی سرمایہ کاری اس کے اپنے رسک، ضابطہ جاتی تقاضوں اور سرمایہ کاری فیصلوں سے مشروط ہوگی۔
کمیٹی نے بینکوں کے علاوہ انشورنس کمپنیوں، میوچل فنڈز، پنشن اسکیموں، ترقیاتی مالیاتی اداروں، مقامی کارپوریشنز اور فیملی آفسز کے وسائل کو نجی ایکویٹی کی طرف لانے کے ممکنہ ڈھانچوں پر غور کیا۔ وزیر خزانہ نے ملکی سرمائے کو فوری ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک فعال مقامی مارکیٹ بعد میں غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی مشترکہ سرمایہ کاری کے لیے بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔
ٹیکس کے محاذ پر کمیٹی نے پرائیویٹ ایکویٹی فنڈز کے لیے واضح، مسابقتی اور قابل پیش گوئی نظام کی تجاویز کا جائزہ لیا۔ زیر غور تصور میں فنڈز کو پاس تھرو وہیکل کے طور پر برتنے اور ٹیکس سرمایہ کار کی سطح پر عائد کرنے کی تجویز شامل ہے۔ تاہم یہ ابھی زیر غور پالیسی تجویز ہے؛ اجلاس کے سرکاری بیان نے اسے حتمی منظور شدہ ٹیکس نظام قرار نہیں دیا۔ وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ عالمی ماڈلز کا جائزہ پاکستان کے معاشی اور ریگولیٹری حالات کے مطابق کیا جائے اور ٹیکس آربیٹریج یا غیر ارادی بگاڑ کے امکانات روکے جائیں۔
اجلاس میں حصولِ ملکیت، کاروباری انضمام، نئے منصوبوں اور موجودہ سرمایہ کاروں کے اخراج سے پیدا ہونے والے مواقع کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کے مطابق آئندہ پانچ سے دس سال میں سرمایہ کاری کے قابل منصوبوں کی ایک بڑی پائپ لائن تیار کرنے کی گنجائش موجود ہے، بشرطیکہ ریگولیٹری اور ٹیکس رکاوٹوں کو واضح اور مربوط انداز میں حل کیا جائے۔
وزیر خزانہ نے متعلقہ اداروں کو باقی ماندہ ریگولیٹری اور ٹیکس امور نمٹانے، ملکی سرمایہ متحرک کرنے اور عملی سرمایہ کاری مواقع کی نشاندہی تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ فریم ورک ابھی تیاری کے مرحلے میں ہے، اس لیے اس کے حتمی ضوابط، ٹیکس سلوک اور عملی سرمایہ کاری نتائج بعد کی منظوریوں اور نفاذ سے واضح ہوں گے۔
