اسلام آباد میں وزیراعظم کی جانب سے قائم ذیلی کمیٹی نے پاکستان میں جھینگا فارمنگ، ایکوا کلچر کی ویلیو چین اور برآمدی صلاحیت بڑھانے کے لیے 120 روز میں جامع روڈ میپ تیار کرنے کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے۔ وزارتِ بحری امور کے وفاقی وزیر محمد جنید انور چوہدری کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی اور صوبائی اداروں کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام آگے بڑھانے کی ذمہ داریاں دی گئیں۔
سرکاری پریس ریلیز کے مطابق روڈ میپ ایک وسیع 24 ماہ کے نفاذ اور جائزہ عمل کا حصہ ہوگا۔ کمیٹی کا مقصد پہلے شعبے کی موجودہ حالت کا قابلِ تصدیق ڈیٹا تیار کرنا، پیداوار سے پروسیسنگ اور برآمد تک رکاوٹوں کی نشاندہی کرنا اور عملی اصلاحات تجویز کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے سات تکنیکی ورکنگ گروپس اور ایک پروجیکشن و کاسٹنگ سیل منظور کیا گیا ہے، جنہیں مجموعی طور پر 14 رپورٹس اور برآمدی تخمینوں پر کام کرنا ہوگا۔
کمیٹی نے ڈیٹا اکٹھا کرنے اور اس کی توثیق کے لیے مشترکہ فریم ورک بھی منظور کیا۔ ابتدائی 14 روزہ ایکشن پلان کے تحت شریک اداروں کو اپنی ذمہ داریاں مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ آئندہ اجلاس میں نامزدگیوں، بنیادی ڈیٹا، فارمد جھینگے کی مجموعی صورت حال، شواہد میں موجود خلا، خطرات اور مجوزہ مداخلتوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس میں پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے فشریز حکام کے علاوہ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان، وزارت قومی غذائی تحفظ اور وزارت بحری امور کے نمائندے شریک ہوئے۔ وفاقی وزیر کے مطابق بین الصوبائی تعاون کے ذریعے مہارت اور وسائل کو یکجا کر کے جھینگا فارمنگ کو زیادہ مسابقتی اور برآمدی صنعت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
پنجاب کے سیکریٹری ایکوا کلچر و فشریز نے بتایا کہ صوبہ جھینگا فارمنگ بڑھانے اور ہیچریز قائم کرنے پر کام کر رہا ہے، تاہم مؤثر ویلیو چین کا قیام اب بھی بڑا چیلنج ہے۔ سندھ کے متعلقہ حکام نے اجلاس کو بتایا کہ صوبے میں 3,500 ایکڑ کے جھینگا فارم کی فزیبلٹی اسٹڈی تیار کی جا رہی ہے اور ویلیو ایڈیشن و ٹریس ایبلٹی کے مسائل بھی حل طلب ہیں۔
یہ فیصلہ فوری طور پر کسی نئے برآمدی ہدف کے حصول کی ضمانت نہیں بلکہ منصوبہ بندی، ڈیٹا کی توثیق اور پالیسی تیاری کا مرحلہ ہے۔ 120 روزہ مدت میں تیار ہونے والی رپورٹ اور اس کے بعد صوبائی و وفاقی سطح پر عملی اقدامات سے واضح ہوگا کہ پیداوار، پروسیسنگ، معیار اور برآمدات کے لیے کون سے منصوبے قابلِ عمل قرار پاتے ہیں۔

