کراچی: پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان دوطرفہ تجارت بڑھانے کے لیے دونوں ملکوں کے بینکاری شعبوں کے درمیان براہ راست روابط مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ایتھوپیا کے سفیر نے پاکستانی کاروباری اور بینکاری حلقوں کے ساتھ رابطے میں کہا کہ مؤثر بینکنگ چینلز تجارت، ادائیگیوں اور سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان اقتصادی تعاون کے امکانات موجود ہیں اور مالیاتی اداروں کے باہمی رابطے سے کاروباری اداروں کو سرحد پار ادائیگیوں، تجارتی فنانسنگ اور بینکنگ سہولتوں تک بہتر رسائی مل سکتی ہے۔ موجودہ گفتگو کسی مخصوص بینک کے درمیان حتمی معاہدے کا اعلان نہیں بلکہ ادارہ جاتی روابط قائم کرنے اور ممکنہ تعاون آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔

ایتھوپیا افریقہ کی بڑی آبادی اور تیزی سے ابھرتی منڈیوں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ پاکستان افریقی ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لیے گزشتہ برسوں میں 'لُک افریقہ' پالیسی کے تحت سفارتی اور تجارتی رابطے وسیع کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ براہ راست بینکاری روابط کی کمی بعض اوقات کاروباری ادائیگیوں اور لیٹر آف کریڈٹ جیسے معاملات کو پیچیدہ بنا دیتی ہے، اس لیے مالیاتی رابطہ تجارت کے بنیادی ڈھانچے کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔

دونوں ملک زرعی مصنوعات، ادویات، ٹیکسٹائل، انجینئرنگ اشیا اور دیگر شعبوں میں باہمی تجارت کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔ تاہم تجارت میں حقیقی اضافہ صرف سفارتی اعلانات سے نہیں ہوگا؛ اس کے لیے بینکاری سہولت، لاجسٹکس، مارکیٹ تک رسائی، کاروباری معلومات اور درآمدی و برآمدی ضوابط میں عملی آسانی درکار ہوگی۔

سفیر کی جانب سے بینکاری روابط پر زور اس وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس کے ذریعے پاکستان اور ایتھوپیا اقتصادی تعلقات کو روایتی سفارتی رابطوں سے آگے لے جانا چاہتے ہیں۔ آئندہ مرحلے میں یہ دیکھا جائے گا کہ دونوں ملکوں کے مرکزی بینک، کمرشل بینک اور تجارتی ادارے کسی باضابطہ انتظام یا براہ راست مالیاتی چینل پر پیش رفت کرتے ہیں یا نہیں۔

فی الحال کسی نئے بینکنگ کوریڈور، کلیئرنگ نظام یا مالی معاہدے کے نفاذ کی تصدیق نہیں ہوئی، اس لیے پیش رفت کو تعاون کی تجویز اور رابطہ کاری کے مرحلے تک محدود سمجھنا درست ہوگا۔