اسلام آباد: عالمی بینک نے پاکستان کی معیشت کے بارے میں تازہ جائزے میں رواں مالی سال کے دوران حقیقی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو تقریباً 3.7 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق بینک نے معاشی سرگرمی میں بتدریج بہتری کی نشاندہی کی، تاہم واضح کیا کہ پائیدار اور زیادہ تیز رفتار ترقی کے لیے ساختی اصلاحات، نجی سرمایہ کاری اور مالیاتی نظم میں تسلسل ضروری ہوگا۔
پاکستان کی معیشت گزشتہ چند برسوں میں بلند مہنگائی، زرمبادلہ کے دباؤ، توانائی کے شعبے کے مسائل اور محدود مالی گنجائش جیسے چیلنجوں سے گزری ہے۔ عالمی بینک کا تازہ تخمینہ اس تناظر میں بحالی کی سمت اشارہ کرتا ہے، لیکن 3.7 فیصد کی متوقع شرح ایسی سطح نہیں جسے خودکار طور پر روزگار، فی کس آمدن اور غربت میں تیز بہتری کے مترادف سمجھا جائے۔ آبادی میں اضافے کے ساتھ حقیقی فی کس آمدن بڑھانے کے لیے زیادہ اور مسلسل معاشی نمو درکار رہتی ہے۔
بینک کے جائزے میں معاشی استحکام کے اقدامات کے ساتھ ان اصلاحات کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی ہے جو کاروباری ماحول، ٹیکس نظام، سرکاری اخراجات اور توانائی کے شعبے کی کارکردگی بہتر بنا سکیں۔ پاکستان کے لیے مالی خسارے اور قرض کے بوجھ کو قابو میں رکھتے ہوئے ترقیاتی اور سماجی اخراجات کے لیے جگہ پیدا کرنا ایک اہم پالیسی چیلنج ہے۔ اسی طرح نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے پالیسی کے تسلسل اور ضابطہ جاتی پیش گوئی کو بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔
معاشی نمو کی پیش گوئیاں متعدد مفروضوں پر مبنی ہوتی ہیں اور عالمی و ملکی حالات میں تبدیلی سے ان میں ردوبدل ہو سکتا ہے۔ توانائی کی قیمتیں، عالمی تجارت، زرعی پیداوار، موسمیاتی واقعات، بیرونی مالی ضروریات اور اصلاحاتی پروگرام کی رفتار پاکستان کی حقیقی کارکردگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے 3.7 فیصد کو حتمی نتیجے کے بجائے موجودہ معلومات کی بنیاد پر ایک تخمینہ سمجھنا ضروری ہے۔
حکومت کے لیے اگلا مرحلہ معاشی استحکام کو ایسی ترقی میں تبدیل کرنا ہے جس کا اثر روزگار، حقیقی اجرت اور کاروباری سرگرمی پر محسوس ہو۔ عالمی بینک کے مطابق اصلاحات میں تسلسل سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ آنے والے مہینوں کے سرکاری قومی کھاتوں، محصولات، مہنگائی اور صنعتی و زرعی پیداوار کے اعدادوشمار سے یہ واضح ہوگا کہ معیشت اس متوقع رفتار کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے یا نہیں۔
