اسلام آباد: گلوبل انوویشن انڈیکس 2026 میں پاکستان 91ویں نمبر پر آیا ہے، جس سے ملک کی اختراعی صلاحیت میں کچھ شعبوں کی پیش رفت کے ساتھ ساختی کمزوریاں بھی نمایاں ہوئی ہیں۔ ڈان کے مطابق عالمی ادارہ برائے دانشورانہ املاک (WIPO) کی جاری کردہ درجہ بندی میں پاکستان کا مقام خطے کی کئی معیشتوں سے کم رہا، جبکہ رپورٹ نے تحقیق، انسانی سرمایہ، ادارہ جاتی ماحول اور کاروباری جدت کو مستقبل کی بہتری کے لیے بنیادی عوامل قرار دیا ہے۔

گلوبل انوویشن انڈیکس ممالک کی کارکردگی کو صرف ایجادات یا پیٹنٹس کی تعداد سے نہیں جانچتا بلکہ اداروں، انسانی سرمائے اور تحقیق، بنیادی ڈھانچے، مارکیٹ اور کاروباری پختگی کے ساتھ علم و ٹیکنالوجی اور تخلیقی پیداوار جیسے متعدد اشاریوں کو یکجا کرتا ہے۔ اس لیے مجموعی رینکنگ کسی ایک شعبے کی کارکردگی کے بجائے اختراعی نظام کی وسیع تصویر پیش کرتی ہے۔

رپورٹ کے تناظر میں پاکستان کے لیے اہم مسئلہ یہ ہے کہ نوجوان آبادی، ڈیجیٹل خدمات، آئی ٹی برآمدات اور کاروباری صلاحیت جیسے امکانات کو مستقل تحقیق و ترقی، معیاری تعلیم اور مضبوط ادارہ جاتی نظام سے جوڑا جائے۔ اگر جامعات، صنعت اور سرکاری پالیسی کے درمیان تحقیق کی تجارتی منتقلی کمزور رہے تو نئے خیالات کو قابل فروخت مصنوعات اور خدمات میں بدلنے کی رفتار محدود رہتی ہے۔

علاقائی موازنہ بھی پالیسی سازوں کے لیے اہم ہے۔ بھارت حالیہ برسوں میں ٹیکنالوجی، اسٹارٹ اپ سرمایہ کاری اور تحقیق کے شعبوں میں تیزی سے آگے بڑھا ہے، جبکہ ایران بھی متعدد علمی اور تکنیکی اشاریوں میں پاکستان سے بہتر پوزیشن رکھتا ہے۔ تاہم مختلف ممالک کی مجموعی رینکنگ ان کے معاشی حجم، ادارہ جاتی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کے مختلف نمونوں سے متاثر ہوتی ہے، اس لیے صرف ایک عدد کو مکمل پالیسی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

پاکستان کے لیے درجہ بندی میں پائیدار بہتری کا انحصار تحقیق و ترقی کے اخراجات، سائنس اور انجینئرنگ کی مہارت، دانشورانہ املاک کے تحفظ، نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور نئی کمپنیوں کے لیے سازگار ضابطہ جاتی ماحول پر ہوگا۔ گلوبل انوویشن انڈیکس ایک تقابلی اشاریہ ہے؛ اس میں مقام کی تبدیلی دوسرے ممالک کی کارکردگی سے بھی متاثر ہوتی ہے، اس لیے آئندہ برسوں میں اصل پیش رفت جانچنے کے لیے ذیلی اشاریوں اور حقیقی سرمایہ کاری کے رجحانات کو ساتھ دیکھنا ضروری ہوگا۔