اردو ہیڈ لائنز ڈیسک

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی کیپٹل مارکیٹس میں دوبارہ واپسی کی تیاری کر رہا ہے اور حکومت دوطرفہ قرضوں پر انحصار کم کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں سے فنانسنگ حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ایکسپریس اردو کی 25 اگست 2026 کی رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ نے پاکستان کی بیرونی فنانسنگ، امریکا کے ساتھ معاشی روابط اور بانڈز کے آئندہ اجرا سے متعلق حکمتِ عملی کی تفصیلات بیان کیں۔

محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان رواں مالی سال کے دوران ایک سے 2 ارب ڈالر مالیت کے یورو بانڈز جاری کرنے پر غور کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں یورو بانڈز اور سکوک کے اجرا کے لیے بینکوں کا ایک کنسورشیم مقرر کیا جا چکا ہے۔ وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان 75 کروڑ ڈالر مالیت کے چینی یوان بانڈز، جنہیں پانڈا بانڈز کہا جاتا ہے، جاری کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت پاکستان کی معیشت کو امداد پر انحصار سے نکال کر تجارت اور سرمایہ کاری پر زیادہ توجہ دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے امریکا کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کو ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک اور ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن پاکستان میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

محمد اورنگزیب نے امریکا کے ساتھ 10 ارب ڈالر کی سوئپ لائن سے متعلق بھی بات کی اور اسے نجی سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کا اشارہ قرار دیا۔ ان کے مطابق واشنگٹن کے ساتھ اس معاملے پر تعمیری پیش رفت ہوئی ہے اور پاکستان کو آئندہ چند ماہ میں جواب ملنے کی امید ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے برآمدات بڑھانے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے کو حکومتی ترجیح قرار دیا۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ جون تک ایک سال کے عرصے میں بڑھ کر 39.5 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین پاکستان کے مجموعی 129.7 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرض میں 23 فیصد کے ساتھ بڑا قرض خواہ ہے، تاہم پاکستان اس وقت چین سے مزید فنانسنگ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔

وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بھی بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس اینڈ پی نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بڑھا کر بی کر دی ہے اور حکومت آئندہ 12 ماہ کے دوران اسے بی پلس تک لے جانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ ان کے بقول طویل مدتی ہدف پاکستان کی ریٹنگ کو ڈبل بی تک پہنچانا ہے۔

اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اپنی بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے مالیاتی ذرائع کو متنوع بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔ یورو بانڈز، سکوک اور پانڈا بانڈز کے مجوزہ اجرا کو اسی حکمتِ عملی کا حصہ بتایا گیا ہے، جبکہ حکومت نے تجارت، سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافے کو بھی اپنی معاشی سمت کے اہم عناصر قرار دیا ہے۔ خبر میں بیان کردہ منصوبے اور اعداد و شمار وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے بیانات پر مبنی ہیں، اور آئندہ اجرا کی حتمی شرائط، حجم اور ٹائم لائن متعلقہ سرکاری فیصلوں اور مارکیٹ حالات کے مطابق سامنے آئیں گی۔