اسلام آباد: اقتصادی رابطہ کمیٹی نے غیر ملکی سپلائرز کے اکاؤنٹ پر کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج سہولت کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے کی تجویز منظور کرلی ہے۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق ای سی سی نے مختلف وزارتوں اور ڈویژنز سے متعلق نو نکاتی ایجنڈے پر غور کیا اور توانائی، گندم ذخائر، روزویلٹ ہوٹل، کراچی کے پانی کے منصوبے اور سکیورٹی گرانٹ سے متعلق فیصلے کیے۔
وزارت خزانہ کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ پٹرولیم ڈویژن کی تجویز کا مقصد ملک کی توانائی سلامتی کے اہم ستون مضبوط کرنا ہے۔ ان میں مقامی پیداوار، اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر اور کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج سہولیات کی ترقی شامل ہے، تاکہ پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین کو زیادہ مضبوط اور پائیدار بنایا جاسکے۔ منظوری درآمدی طریقۂ کار سے متعلق ہے؛ رپورٹ میں فوری درآمدی مقدار، قیمت یا ترسیل کی تاریخ نہیں دی گئی۔
ای سی سی نے پاکستان اور سلطنت عمان کے درمیان پہلے سے طے شدہ بین الحکومتی معاہدے کی روشنی میں سیل پرچیز ایگریمنٹ کی بھی منظوری دی۔ رپورٹ کے مطابق اس کا مقصد او کیو ٹریڈنگ اور پاکستان اسٹیٹ آئل کے درمیان توانائی شعبے میں تعاون بڑھانا ہے۔ یہ فیصلہ معاہداتی فریم ورک کی منظوری ہے، اسے کسی مخصوص کھیپ کی فوری آمد یا صارف قیمت میں تبدیلی کی ضمانت نہیں سمجھا جاسکتا۔
گندم کے معاملے میں پاسکو کے ذخائر وصول کنندہ اداروں کو 85 فیصد مقامی اور 15 فیصد درآمدی گندم کے تناسب سے فراہم کرنے کی سمری منظور کی گئی۔ تجویز پاسکو بورڈ کی سفارش پر پیش ہوئی اور اس کا بیان کردہ مقصد درآمدی گندم کے ذخیرے کو بروقت استعمال کرنا تھا۔
کمیٹی نے روزویلٹ ہوٹل کی ازسرنو ترقی کے لیے یونین سے رابطہ اور تصفیے کے مذاکرات کرنے والی کمیٹی بنانے کی منظوری بھی دی۔ پی آئی اے آئی ایل اور نیشنل بینک کے درمیان طے شدہ ٹرم شیٹ کی بنیاد پر 153.855 ملین امریکی ڈالر کے مساوی حکومتی ضمانت کی منظوری رپورٹ ہوئی۔
دیگر فیصلوں میں گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم کے فور کے لیے 7 ارب 797 کروڑ 16 لاکھ روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ اور فرنٹیئر کور بلوچستان ساؤتھ کے لیے 56 کروڑ 70 لاکھ 32 ہزار روپے کی گرانٹ شامل ہے، جسے ریکوڈک سرگرمیوں کی سکیورٹی سے جوڑا گیا۔ یہ تمام اعداد اور مقاصد ایکسپریس کی وزارت خزانہ پر مبنی رپورٹ سے منقول ہیں۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




