لاہور: آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (ایپٹما) کے پیٹرن انچیف گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ پاکستان میں کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لیے گنے کی کاشت کم کرنا ہوگی کیونکہ کپاس ملکی ٹیکسٹائل صنعت کی اہم ضرورت ہے۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ بات لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران کہی۔

گوہر اعجاز نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کو ہر سال 14 سے 15 ملین بیلز کپاس درکار ہوتی ہیں جبکہ موجودہ پیداوار تقریباً 5 ملین بیلز ہے۔ یہ اعداد ایپٹما کے عہدیدار کے بیان کے طور پر رپورٹ ہوئے ہیں؛ انہیں اس خبر میں کسی نئی سرکاری فصل رپورٹ یا پالیسی فیصلے کا درجہ نہیں دیا گیا۔

ان کے مطابق گنے کی فصل کپاس کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ پانی استعمال کرتی ہے، اس لیے گنے کے زیر کاشت رقبے میں کمی اور کپاس کے فروغ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کپاس پیدا کرنے والے علاقوں میں شوگر ملز قائم ہونے سے فصلوں کے انتخاب کا منظرنامہ بدل گیا ہے اور ایپٹما کی قیادت کو کپاس کی فصل دوبارہ مضبوط بنانے کا کام دیا جا رہا ہے۔

پیٹرن انچیف ایپٹما نے ٹیکسٹائل شعبے کی برآمدات 19 ارب ڈالر اور روزگار ایک کروڑ سے زیادہ افراد بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکلات کے باوجود یہ شعبہ ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، مگر صنعت کو مزید آگے لے جانے کے لیے مقامی کپاس کی پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے حکومت اور صنعت کاروں سے مل کر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔

گنے اور کپاس کے درمیان رقبے کی تقسیم زرعی پیداوار، پانی، کسانوں کی آمدن، شوگر اور ٹیکسٹائل صنعتوں سمیت کئی مفادات سے جڑی ہے۔ گوہر اعجاز کا بیان ایک صنعتی تنظیم کی پالیسی تجویز ہے؛ دستیاب رپورٹ میں حکومت کی جانب سے گنے کا رقبہ کم کرنے، کسی پابندی، امدادی قیمت یا نئے زرعی ہدف کی منظوری کا ذکر نہیں۔

اسی طرح پانی کے استعمال اور فصلوں کی کارکردگی کا درست موازنہ علاقے، آبپاشی کے طریقے اور فی ایکڑ پیداوار جیسے عوامل سے بدل سکتا ہے۔ ماخذ نے جو تقابلی دعویٰ دیا ہے اسے مقرر کے مؤقف کے طور پر رکھا گیا ہے، کسی آزاد سائنسی پیمائش یا ملک گیر حتمی نتیجے کے طور پر نہیں۔

یہ خبر ایکسپریس اردو کی براہ راست رپورٹنگ پر مبنی ہے۔ ضرورت، پیداوار، برآمدات اور روزگار کے تمام اعداد گوہر اعجاز کے بیان سے منسوب ہیں اور کسی سرکاری منظوری یا فوری پالیسی تبدیلی کا غیر مذکور دعویٰ شامل نہیں کیا گیا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک