حکومت پاکستان اور گوگل نے ملک میں ڈیجیٹل تبدیلی کی رفتار بڑھانے، مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینے اور نوجوانوں کو نئی مہارتیں فراہم کرنے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ اردوپوائنٹ کی براہ راست دیکھی گئی رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو وسعت دینے اور 2030 تک آئی ٹی برآمدات کے لیے مقرر کردہ 30 ارب ڈالر کے ہدف کی حمایت کے وسیع پروگرام کا حصہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق معاہدے کے موقع پر وزیراعظم نے گوگل کے عالمی پبلک پالیسی اور حکومتی امور کے صدر ولسن وائٹ اور ان کے وفد کا استقبال کیا۔ ملاقات میں وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام اور وزیر خزانہ سمیت متعلقہ حکام شریک تھے۔ خبر میں دستخط شدہ مفاہمت کی ہر شق یا مالی قدر بیان نہیں کی گئی، اس لیے اسے کسی مکمل خریداری معاہدے یا لازمی سرمایہ کاری کی ضمانت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
تعلیمی اور افرادی قوت کے حصے میں 2026 کے دوران ڈیڑھ لاکھ گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس فراہم کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔ رپورٹ میں ایک سال کے لیے اے آئی پلس اور جیمنائی نوٹ بک جیسی سہولتوں تک ممکنہ رسائی کا بھی ذکر ہے۔ ان اقدامات کا مقصد طلبہ، اساتذہ، سرکاری ملازمین اور کام کرنے والے افراد کو ڈیجیٹل اوزاروں، ڈیٹا، سائبر تحفظ اور مصنوعی ذہانت سے متعلق عملی صلاحیتیں دینا ہے۔ ان کورسز کے انتخاب، اہلیت اور تقسیم کا تفصیلی طریقۂ کار متعلقہ اداروں کی آئندہ ہدایات سے واضح ہوگا۔
اسلام آباد میں مصنوعی ذہانت کے مرکزِ امتیاز کے قیام کی تجویز بھی تعاون کا حصہ بتائی گئی ہے۔ اس مرکز سے تحقیق، مقامی مسائل کے حل، کاروباری استعمال اور سرکاری شعبے میں مہارت کی تیاری کو جوڑا گیا ہے۔ رپورٹ میں ایف بی آر کے لیے اے آئی کے استعمال، زراعت میں ڈیجیٹل حل، چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کی معاونت، ایپ ڈیولپمنٹ، گیمنگ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں جیسے شعبوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ کسی خاص نظام کے نفاذ یا شہری ڈیٹا کے استعمال سے متعلق تفصیلی رازداری اور حفاظتی ضابطے خبر میں موجود نہیں۔
مفاہمت پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے مشترکہ ٹاسک فورس بنانے کی بات کی گئی ہے۔ ایسی ٹاسک فورس اہداف، مدت، ذمہ دار اداروں اور پیش رفت کے پیمانوں کو واضح کر سکتی ہے، تاہم اصل نتائج اس بات پر منحصر ہوں گے کہ منصوبوں کے لیے وسائل، تربیت، مقامی زبانوں کی سہولت، انٹرنیٹ تک رسائی اور ڈیٹا تحفظ کے اصول کس طرح طے کیے جاتے ہیں۔
اردو ہیڈ لائنز اس پیش رفت کو ایک پالیسی اور تعاون کے فریم ورک کے طور پر پیش کر رہا ہے، نہ کہ تمام اعلان کردہ فوائد کے فوری حصول کے طور پر۔ عوام اور کاروباری اداروں کے لیے عملی اہمیت تب واضح ہوگی جب کورسز، مراکز، سرکاری خدمات اور کاروباری پروگراموں کی باضابطہ تفصیلات جاری ہوں گی۔ متعلقہ وزارت یا گوگل کی جانب سے عمل درآمد کا شیڈول سامنے آنے پر اسی ریکارڈ کو مادی طور پر اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔




