سندھ حکومت اور سی ایم پاک، جو زونگ کی بنیادی کمپنی ہے، نے کراچی میں مصنوعی ذہانت کے لیے تیار ٹائر تھری ڈیٹا سینٹر قائم کرنے پر تعاون کا اصولی اتفاق کیا ہے۔ ڈان کی براہ راست دیکھی گئی رپورٹ کے مطابق یہ سمجھوتا وزیر اعلیٰ ہاؤس میں مراد علی شاہ اور سی ایم پاک کے چیئرمین و چیف ایگزیکٹو ہوو جونلی کی ملاقات میں سامنے آیا۔ منصوبے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت آگے بڑھانے کی بات کی گئی ہے۔

کمپنی کے وفد نے بتایا کہ مجوزہ ڈیٹا سینٹر کو عام ٹیلی کام سہولت کے مقابلے میں زیادہ اور مسلسل بجلی درکار ہوگی۔ قابل اعتماد آپریشن اور مستقبل میں توسیع کے لیے صنعتی بجلی ٹیرف، گرڈ کی اضافی گنجائش، خرابی کی صورت میں متبادل کے لیے دوہری پاور فیڈ اور منصوبے کو ترجیحی درجہ دینے کی درخواست کی گئی۔ یہ مطالبات زیر غور ہیں؛ خبر میں ان کی حتمی منظوری یا بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے معاہدے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

وزیر اعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو تجویزوں کا جائزہ لینے کی ہدایت دی، جن میں کمرشل سے صنعتی ٹیرف میں تبدیلی، گرڈ کی گنجائش بڑھانا، دوہری فیڈ اور تیز تر سرکاری سہولت کاری شامل ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی مکمل معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ اس ہدایت کا مطلب یہ نہیں کہ زمین، تعمیراتی اجازت، توانائی معاہدہ یا مالی بندوبست کے تمام مراحل مکمل ہو چکے ہیں۔

ٹائر تھری ڈیٹا سینٹر سے عموماً نظام کی دستیابی اور دیکھ بھال کے دوران تسلسل کے لیے متعدد تکنیکی راستے مراد ہوتے ہیں، مگر موجودہ رپورٹ میں کسی آزاد سرٹیفکیشن، تعمیراتی ڈیزائن یا متوقع گنجائش کی تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی طرح منصوبے کے آغاز، تکمیل، سرمایہ کاری کی رقم، مقامی یا غیر ملکی آلات اور صارفین کی فہرست بھی جاری نہیں ہوئی۔

مراد علی شاہ نے مقامی ڈیٹا ہوسٹنگ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اختراع کے لیے ایسے منصوبوں کی اہمیت بیان کی۔ ان کے مطابق اس سے اعلیٰ قدر کی ملازمتوں اور کاروباری مواقع میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ حکومتی توقعات ہیں؛ ملازمتوں کی تعداد یا اقتصادی اثر کا باقاعدہ تخمینہ موجودہ رپورٹ میں شامل نہیں، اس لیے انہیں طے شدہ نتیجہ نہیں سمجھا جا رہا۔

اردو ہیڈ لائنز اس مرحلے پر تعاون کے اصولی اتفاق، کمپنی کی توانائی ضروریات اور صوبائی جائزے کی ہدایت کی اطلاع دے رہا ہے۔ معاہدہ، سرمایہ کاری، مقام، تعمیراتی ٹائم لائن، توانائی بندوبست یا ڈیٹا تحفظ کے ضابطے جاری ہونے پر ان کی الگ تصدیق ضروری ہوگی۔ مجوزہ مرکز کی عملی حیثیت انہی آئندہ دستاویزات اور عمل درآمد سے واضح ہوگی۔