پاکستان کا خلیجی ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ مالی سال 2026-27 کے پہلے ماہ جولائی میں نمایاں طور پر کم ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ توانائی سے متعلق درآمدات میں بڑی کمی اور برآمدات میں محدود اضافہ بتایا گیا ہے۔ ڈان کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مرتب کردہ اعدادوشمار میں خلیجی خطے سے درآمدات سالانہ بنیاد پر 44.3 فیصد کم ہو کر 879.98 ملین ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی ماہ میں 1.578 ارب ڈالر تھیں۔
اسی عرصے میں مشرق وسطیٰ کے لیے پاکستان کی برآمدات 5.6 فیصد بڑھ کر 271.60 ملین ڈالر ہوئیں، جو ایک سال قبل 257.16 ملین ڈالر تھیں۔ برآمدی بہتری زیادہ تر متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور اردن میں دیکھی گئی، جبکہ قطر، کویت اور بحرین کے لیے برآمدات میں کمی ریکارڈ ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق درآمدات میں کمی بڑی حد تک پیٹرولیم اور ایل این جی خریداری میں کمی سے جڑی رہی۔ پاکستان نے متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر سے توانائی کی خریداری نمایاں طور پر کم کی۔ سعودی عرب سے درآمدات میں بھی 20 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی، جبکہ وہاں پاکستان کی برآمدات تقریباً 4.5 فیصد بڑھیں۔ اس امتزاج سے سعودی عرب کے ساتھ تجارتی خسارہ سکڑا۔
متحدہ عرب امارات کے لیے برآمدات میں مالی سال کے پہلے ماہ میں تقریباً 9 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ وہاں سے درآمدات 36.4 فیصد گھٹ گئیں۔ قطر کے لیے پاکستانی برآمدات تقریباً 16 فیصد کم ہوئیں، لیکن درآمدات میں تقریباً 78 فیصد کمی نے مجموعی تجارتی فرق محدود کر دیا۔ کویت کے لیے برآمدات 10.5 فیصد کم رہیں جبکہ وہاں سے درآمدات میں تقریباً 97 فیصد کی غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔
بحرین کا رجحان مختلف رہا، جہاں پاکستان کی برآمدات 32.2 فیصد کم ہوئیں اور درآمدات 118 فیصد بڑھیں۔ اردن کے ساتھ تجارت نسبتاً متوازن رہی؛ وہاں برآمدات 13.7 فیصد اور درآمدات 4.2 فیصد بڑھیں۔ مجموعی طور پر اعدادوشمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی توانائی درآمدات میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کا حصہ بہت بڑا ہے اور دونوں ملک مل کر خلیجی خطے سے پاکستان کی درآمدات کا تقریباً 90 فیصد فراہم کرتے ہیں۔
مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی مشرق وسطیٰ کے لیے برآمدات 2 فیصد سے زیادہ کمی کے ساتھ 3.093 ارب ڈالر رہی تھیں، جبکہ خطے سے درآمدات 4 فیصد گھٹ کر 16.413 ارب ڈالر رہیں۔ جولائی کے تازہ اعدادوشمار ایک ماہ کی تصویر پیش کرتے ہیں، اس لیے پورے مالی سال کے رجحان کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا، خصوصاً جب توانائی کی عالمی قیمتیں اور علاقائی جغرافیائی سیاسی صورت حال درآمدی بل کو تیزی سے متاثر کر سکتی ہیں۔




