پاکستان میں خواتین کی زمین کی ملکیت اور رسمی مالی نظام تک رسائی انتہائی محدود ہے۔ سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے ایک تازہ مطالعے کے مطابق 15 سے 49 سال کی عمر کی کبھی شادی شدہ خواتین میں صرف تقریباً 2 فیصد ایسی ہیں جو اکیلے یا مشترکہ طور پر زمین کی مالک ہیں، جبکہ 97.2 فیصد خواتین نے زمین یا مکان وراثت میں حاصل نہیں کیا۔
مطالعے کے مطابق پاکستان میں ملازمت یا معاشی سرگرمی سے وابستہ خواتین میں 67 فیصد زراعت میں کام کرتی ہیں، لیکن صرف 1.5 فیصد زرعی گھرانوں کو باضابطہ ریکارڈ میں خواتین کی سربراہی والا گھرانہ درج کیا گیا ہے۔ سندھ میں صورت حال مزید سخت دکھائی گئی، جہاں 99.1 فیصد خواتین کے پاس اکیلے یا مشترکہ طور پر زمین کی ملکیت نہیں ہے۔
رپورٹ نے زمین کے ساتھ مالی اور ڈیجیٹل رسائی کے فرق کو بھی نمایاں کیا۔ مردوں میں 56 فیصد کے پاس مکمل سروس والا مالی اکاؤنٹ ہے، جبکہ خواتین میں یہ شرح 14 فیصد بتائی گئی۔ اسی طرح موبائل والٹ کی ملکیت مردوں میں 48 فیصد اور خواتین میں 11 فیصد ہے۔ مطالعے کا مؤقف ہے کہ زمین، مالیاتی اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل ذرائع تک محدود رسائی خواتین کی معاشی خودمختاری اور زرعی شعبے میں ان کی پیداواری صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔
ایس ڈی پی آئی نے موسمیاتی خطرات کو بھی اس عدم مساوات سے جوڑا ہے۔ سروے میں شامل دس میں سے نو سے زیادہ خواتین کسانوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں انہیں شدید موسمی واقعے، مثلاً گرمی کی لہر، سیلاب، شدید بارش یا خشک سالی جیسی صورت حال کا سامنا ہوا۔ 80 فیصد سے زیادہ نے فصلوں کے نقصان یا زراعت پر منفی اثرات کی اطلاع دی۔ کئی اضلاع میں قرض لینا بحران سے نمٹنے کی اولین حکمت عملیوں میں شامل تھا۔
مطالعے کے مطابق 2022 کے سیلاب سے پاکستان کو 30 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان اور معاشی خسارہ ہوا تھا جبکہ لچکدار تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 16.3 ارب ڈالر درکار ہونے کا تخمینہ لگایا گیا۔ ایس ڈی پی آئی کا استدلال ہے کہ دیہی معیشت، خصوصاً زراعت اور مویشی بانی، میں خواتین کے حقیقی کردار کو مالی مصنوعات اور سرکاری اعدادوشمار میں بہتر طور پر تسلیم کرنا ضروری ہے۔
رپورٹ نے مالیاتی اداروں، ریگولیٹرز، ترقیاتی مالیاتی اداروں اور شراکت داروں کے لیے صنفی لحاظ سے حساس اور موسمیاتی خطرات کو مدنظر رکھنے والی مالی سہولتوں کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ اعدادوشمار ایک تحقیقی مطالعے کے نتائج ہیں؛ ان کا مقصد پورے ملک کی ہر خاتون کے انفرادی حالات کی وضاحت نہیں بلکہ مجموعی ساختی فرق کی نشاندہی کرنا ہے۔




