اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے زرعی شعبے کو خام اجناس کی برآمد سے آگے لے جا کر اعلیٰ قدر، تصدیق شدہ، برانڈڈ اور تیار مصنوعات کی عالمی فروخت بڑھانے کے لیے قابل عمل روڈ میپ مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزارت منصوبہ بندی کے تحت ’’پاکستان کی اعلیٰ قدر برآمدی صلاحیت کو کھولنے‘‘ سے متعلق تیسرے اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں سرکاری اداروں، کاروباری تنظیموں، مالیاتی اداروں، صوبائی نمائندوں، ماہرین اور برآمد کنندگان سمیت تقریباً ایک سو شراکت داروں نے شرکت کی۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق اجلاس میں طے کیا گیا کہ متعلقہ وزارتیں اور ادارے رکاوٹوں، ضروری پالیسی فیصلوں، ذمہ دار فریقوں اور قابل پیمائش اہداف پر مشتمل عملی خاکہ تیار کریں گے۔ احسن اقبال نے کہا کہ تین ماہ بعد دوبارہ اجلاس بلا کر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یہ ہدایت ایک پالیسی اور منصوبہ بندی کا مرحلہ ہے؛ دستیاب بیان میں کسی ایک نئے برآمدی منصوبے کے لیے فوری فنڈ جاری ہونے یا مخصوص اہداف کے حصول کی تصدیق نہیں کی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ زراعت قومی پیداوار کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ فراہم کرتی اور قریب 37 فیصد افرادی قوت کو روزگار دیتی ہے، مگر برآمدی ڈھانچے میں خام یا کم قدر مصنوعات کا حصہ اب بھی زیادہ ہے۔ وزارت کے مطابق زرعی تجارت ملکی برآمدات کا لگ بھگ 22 فیصد بنتی ہے۔ حکومت نے ’’اڑان پاکستان‘‘ کے تحت 2035 تک معیشت کا حجم ایک کھرب ڈالر اور سالانہ برآمدات 100 ارب ڈالر سے اوپر لے جانے کی خواہش ظاہر کی ہے، تاہم یہ طویل مدتی سرکاری اہداف ہیں، یقینی نتائج نہیں۔

ایگزم بینک کے نمائندوں نے 2026 سے 2028 کے دوران برآمدی فنانس پول کو ایک کھرب سے بڑھا کر دو کھرب روپے تک لے جانے کے منصوبے اور چھوٹے و متوسط کاروباروں کے لیے الگ سہولت کی تیاری سے آگاہ کیا۔ اسی طرح بین الاقوامی ضابطوں اور سرٹیفکیشن میں معاونت کے لیے نیشنل کمپلائنس اتھارٹی تین ماہ میں قائم کرنے کا منصوبہ بیان کیا گیا۔ ان اقدامات کی حتمی شرائط، اہل کاروباروں کی فہرست اور رقوم کی تقسیم متعلقہ منظوریوں اور عملی قواعد کے بعد واضح ہوگی۔

سرکاری اعداد کے مطابق مالی سال 2026 میں غذائی برآمدات تقریباً 5 ارب 2 کروڑ ڈالر رہیں، جبکہ غذائی درآمدات 9 ارب 15 کروڑ ڈالر تک پہنچیں۔ جولائی میں غذائی برآمدات میں سالانہ بنیاد پر 2.5 فیصد، چاول میں 19 فیصد اور گوشت میں 16 فیصد اضافے کی اطلاع دی گئی۔ اجلاس میں حلال گوشت کی برآمدات 2028 تک 70 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کا ہدف بھی پیش کیا گیا۔ لائیوسٹاک ٹریس ایبلٹی کے لیے 7 ارب 35 کروڑ روپے کے پروگرام کا ذکر ہوا، مگر حکام نے کہا کہ مؤثر نفاذ کے لیے مالی وسائل اور صوبائی اختیار دونوں ضروری ہیں۔ روڈ میپ کی کامیابی کا انحصار اب مقررہ مدت میں ضابطہ جاتی اصلاحات، مالی سہولت، معیار کی تصدیق اور مارکیٹ تک رسائی کے قابل پیمائش نتائج پر ہوگا۔