پاکستان 27 سے 31 اکتوبر 2026 تک اسلام آباد میں خلائی ٹیکنالوجی کو قدرتی آفات کی پیشگی اطلاع، موسمیاتی کارروائی اور خطرات کے جائزے کے لیے استعمال کرنے سے متعلق اقوام متحدہ۔پاکستان بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔ پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) حکومت پاکستان کی جانب سے اس پانچ روزہ پروگرام کی میزبانی کرے گا، جبکہ اقوام متحدہ کا دفتر برائے بیرونی خلائی امور اپنے UN-SPIDER پروگرام کے ذریعے شریک منتظم ہے۔

کانفرنس کا عنوان ”Leveraging Space Technology for Early Warning for All (EW4All), Climate Action and Disaster Risk Assessment“ رکھا گیا ہے۔ منتظمین کے مطابق اس کا بنیادی مقصد سیٹلائٹ مشاہدات، خلائی ٹیکنالوجی اور جغرافیائی معلومات کو مؤثر پیشگی انتباہی نظام، آفات کے خطرات کے تجزیے اور موسمیاتی منصوبہ بندی میں زیادہ عملی طور پر استعمال کرنا ہے۔ پروگرام میں حکومتوں، بین الاقوامی و علاقائی اداروں، جامعات، تحقیقی مراکز، سفارتی برادری اور خلائی شعبے کے ماہرین شریک ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے UN-SPIDER پورٹل کے مطابق کانفرنس میں تقریباً 200 شرکا متوقع ہیں، جبکہ پاکستانی میڈیا کو جاری سپارکو کی معلومات میں 200 سے 250 شرکا، جن میں 60 سے 70 بین الاقوامی مندوبین اور تقریباً 150 پاکستانی شرکا شامل ہیں، کا تخمینہ دیا گیا ہے۔ کانفرنس کو ایشیا پیسیفک اسپیس کوآپریشن آرگنائزیشن اور انٹر اسلامک نیٹ ورک آن اسپیس سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کی معاونت بھی حاصل ہے۔

اجلاسوں میں سیلاب، خشک سالی اور شدید گرمی جیسے خطرات کی نگرانی، پانی، زراعت، جنگلات اور ماحول میں تبدیلیوں کے سیٹلائٹ مشاہدے، جغرافیائی مصنوعی ذہانت یعنی GeoAI اور موسمیاتی معلومات کے عملی استعمال پر گفتگو ہوگی۔ خاص توجہ اقوام متحدہ کے Early Warnings for All اقدام پر ہوگی، جس کا مقصد موسم اور آب و ہوا سے متعلق خطرات سے آبادیوں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے بروقت انتباہی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

یہ پروگرام سینڈائی فریم ورک برائے آفات کے خطرات میں کمی، پیرس معاہدے اور پائیدار ترقی کے ہدف 13 سے بھی منسلک ہے۔ کانفرنس کے بعد 2 سے 6 نومبر تک خلائی بنیادوں پر آفات کے انتظام سے متعلق ایک الگ تربیتی کورس بھی طے ہے، جس میں ردعمل پر مبنی نظام سے پیشگی خطرہ شناسی اور تیاری کی جانب منتقلی پر عملی تربیت دی جائے گی۔ پاکستان کے لیے اس پروگرام کا اہم پہلو سیٹلائٹ اور جغرافیائی ڈیٹا کو قومی پیشگی انتباہ، موسمیاتی لچک اور آفات کے انتظام کے ادارہ جاتی نظام میں زیادہ مؤثر طور پر شامل کرنا ہے۔